وزیرستان میں عارضی جنگ بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں نے عارضی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان طارق جمیل نے بی بی سی اردو سروس کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلفون پر بتایا کہ جنگ بندی کے اس فیصلے کی وجہ چار مئی سے شروع ہونے والا تبلیغی اجتماع ہے۔ مقامی طالبان کے ترجمان کے بقول یہ جنگ بندی گیارہ مئی تک جاری رہےگی جس کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی فوجی کارروائی کی صورت میں شدت پسندوں کو دفاع کا حق حاصل ہوگا۔ صدر مقام میران شاہ میں میں جعمرات سے سہ روزہ تبلیغی اجتماع شروع ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے دینی علما اور تبلیغی جماعت کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند ماہ سے جاری لڑائی اور کشیدگی کی وجہ سے اس کا انعقاد خطرے میں دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن اب جنگ بندی سے شاید یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ یہ ایک اسلامی اجتماع ہے جس میں دین کی باتین ہونگی لہذا اس دوران جنگ بندی ضروری تھی۔ اسی قسم کی عارضی جنگ بندی کا اعلان جنوبی وزیرستان میں مقامی عسکریت پسندوں کے ایک رہنما حاجی عمر نے بھی کیا ہے۔ طارق جمیل نے میر علی کے قریب ایک حکومت نواز قبائلی سردار کی ہلاکت کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ ان کے گروہ کی کارروائی تھی یا کسی اور کی۔ انہوں نے نیم فوجی ملیشیا کے چار سپاہیوں کو بدستور اپنی حراست میں رکھنے کی تصدیق کی۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: 3 سو شدت پسند ہلاک 29 April, 2006 | پاکستان فوج پر حملے کے ذمہ دار ہیں: طالبان25 April, 2006 | پاکستان فوجی گاڑیوں پر راکٹوں سے حملہ25 April, 2006 | پاکستان وزیرستان حملے میں دو افراد ہلاک10 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||