امریکہ کے خلاف جہاد کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان لیڈر حاجی عمر نے کہا ہے کہ امریکہ کے خلاف اس وقت تک جہاد جاری رہے گا جب تک امریکی افواج افغانستان میں موجود ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں حاجی عمر نے کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف جہاد کو اس وقت تک نہیں روکیں گے جب تک وہ علاقے سے نکل نہیں جاتا۔ حاجی عمر کو 2004 میں طالبان لیڈر نیک محمد کے امریکی حملے میں ہلاک ہونے کے بعد مقامی طالبان کا لیڈر چنا گیا تھا۔ افغانستان کی حکومت شکایت کرتی رہی ہے کہ پاکستان کے علاقے سے مسلح افراد افغانستان میں داخل ہو کر پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔
حاجی عمر نے کہا کہ مسلح جہدو جہد کو ختم کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے۔’ جب تک امریکہ اس علاقے میں موجود ہے ہم جہاد جاری رکھیں گے‘ ۔ حاجی عمر امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسئلے کا واحد حل امریکہ کی علاقے سے روانگی ہے۔ حاجی عمر پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہزاروں مقامی طالبان کے سربراہ ہیں۔ حاجی عمر نے کہا کہ مقامی طالبان کا پاکستان کی فوج سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج ان پر امریکہ کے دباؤ میں حملے کرتی ہے۔ حاجی عمر نے کہا کہ افغانستان کی حکومت تواتر کے ساتھ جاسوسی کے لیے ان کے پاس ایجنٹ بھیجتی رہتی ہے جو واپس جا کر غیر ملکی شدت پسندوں کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں غلط اطلاعات فراہم کرتے ہیں جس کی بنا پرامریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالتا ہے کہ پاکستانی فوج ہم پر حملہ کرتی ہے۔
حاجی عمر کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان کی فوج ان کےگھروں پر بمباری کرتی ہے لیکن لہذا وہ جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہیں۔ قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے حاجی عمر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایسا کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ ’اگر ایک مسلمان ہمارے پاس حفاظت کی غرض سے آئے گا تو ہم مذہبی طور پر اس کو تحفظ فراہم کرنے پر مجبور ہیں‘۔ حاجی عمر نے کہا: ’ غیر ملکی مسلمان بھائیوں کے لیے ہم اپنی جان، مال اور خاندان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی حکومت نے مقامی طالبان کو یہ پیشکش کی تھی کہ غیر ملکی مسلمانوں کو ایک کیمپ میں رکھا جائے جہاں ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائےگا اور ان کو ماہانہ خرچ بھی مہیا کیا جائے گا۔ طالبان رہنما نے کہا کہ مقامی طالبان نے حکومت کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنے مہمانوں کو ان کے مرضی کے خلاف کہیں نہیں رکھنا چاہتے۔ حاجی نے کہا کہ کسی غیر ملکی مسلمان کو پاکستان کی حکومت کے حوالے کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کو اپنے لوگوں کو تباہ کرنے کی بجائے امریکیوں کو کہنا چاہیے کہ وہ افغانستان سے چلے جائیں۔ | اسی بارے میں ’میران شاہ سے باہرہمارا کنٹرول ہے‘18 March, 2006 | پاکستان ’طاقت سے حل نہیں نکلےگا‘06 March, 2006 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان نہیں امن کمیٹی‘16 March, 2006 | پاکستان طالبان: ہلاکتوں کی تصدیق03 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||