پینتیس قبائلی افراد کی حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت نے سات فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے ردعمل میں تین قبیلوں کے پینتیس افراد کو حراست میں لے کر ان قبیلوں پر ایک کڑوڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ حکام نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں یہ گرفتاریاں جمعہ کو کی گئیں۔ جن قبائل کے افراد کو حراست میں لیاگیا ہے اور ان پر جرمانہ عائد کیا گیا ان میں درپہ خیل، بورا خیل اور میران شاہ گاؤں شامل ہیں۔ یہ اعلان مقامی انتظامیہ نے جمعہ کے روز میران شاہ میں اتمانزئی قبیلے کے ساتھ ایک جرگے میں کیا۔ ادھر ایف آر ٹانک کے نیم قبائلی علاقے جنڈولہ میں مقامی طالبان کا ایک جرگہ ہوا جس میں قبائلیوں سے افغانستان میں جنگ کے لیئے نام لکھانے کے لیئے کہا گیا ہے۔ قبائلی جنگجوں عبداللہ محسود کے گروپ سے تعلق رکھنے والے طالبان کے اس جرگے کی صدارت مولوی عصمت اللہ نے کی۔ جرگے نے مقامی لوگوں کو داڑھی رکھنے کے لیئے جو مہلت دی تھی اس میں دو ماہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مقامی طالبان نے جنڈولہ کے علاقے میں قتل یا دیگر جرائم کے لئے سزائیں خود دینے کا بھی اعلان کیا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: سات فوجی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان باجوڑ: مشتبہ غیر ملکی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان ’ دو امریکی جاسوس قتل‘19 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||