قبائلی روایت کے تحت گھر مسمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کوکی خیل قبیلے کے ہزار آفراد پر مشتمل لشکر نے مقامی روایات (میراتہ) کے تحت ا زخود نوٹس لیتے ہوئے دو فریقین کے مابین جاری لڑائی میں ایک فریق کے گھروں کو مسمار کردیا ہے اور ان کو علاقہ سے نکال دیا ہے جبکہ میراتہ کے مرتکب فریق کی جائیداد کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔ مقامی پو لیٹکل انتظامیہ نے گھروں کی مسماری کی تصدیق کردی ہے۔ اکرام اللہ کے مطابق چند روز قبل آدم خان گروپ نے میر بادشاہ کے خاندان کے اس آخری چشم و چراغ سالہ زرین کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس طرح اس خاندان کے تمام مرد اس دشمنی کی نذر ہوگئے۔ قبائلی رہنما کےمطابق جب ایک ہی خاندان کے تمام مرد مخالف فریق کے تشدد کا نشانہ بنتے ہے تو اسے ’میراتہ‘ کہتے ہے اور اسے قبائلی روایات میں انتہائی ظلم سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ اکرام اللہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں قبائلی لشکر ازخود اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیتا ہے اور جو فرق ظلم میں ملوث ہوتا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس لشکر کشی میں پانچ ہزار آفراد نے ملک عطا اللہ کی قیادت میں شرکت کی اور آدم خان تور خیل کے دو گھروں کو مسمار کیا جبکہ جرگے کے حکم پر ان کی جائیداد بھی ضبط کردی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آدم خان گزشہ روز اپنے اہل و عیال سمت پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے تھے۔ اس سلسلے میں جب پولیٹیکل تحصیلدار روشن خان سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے بی بی سی کو واقع کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا بتایا کہ گھروں کو مسمار کیا گیا ہے لیکن انہیں اور کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ | اسی بارے میں لشکر کی تشکیل مؤخر11 May, 2004 | پاکستان مزید پانچ مطلوب حکومت کے حوالے11 August, 2004 | پاکستان وزیرستان کا سچ معلوم نہیں19 April, 2006 | پاکستان جنگ جیتنا آسان، جرگہ جیتنا مشکل19 April, 2004 | پاکستان لشکر کارروائی کے لئے تیار12 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||