BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 May, 2006, 21:56 GMT 02:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان کیلیے گرینڈ جرگہ

شمالی وزیرستان
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت ایک جرگہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔


شمالی وزیرستان میں القاعدہ، طالبان اور ان کے مقامی حامیوں کے خلاف گزشتہ دنوں کئی بڑی فوجی کارروائیوں کے بعد اب بظاہر حکومت ایک مرتبہ پھر بات چیت کی میز کی جانب لوٹتی نظر آتی ہے۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ اس سلسلے میں مقامی طالبان کا کیا ردعمل ہوگا۔

مقامی طالبان نے گزشتہ دنوں تبلیغی اجتماع کے موقع پر گیارہ مئی تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ البتہ اس کے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی مقامی طالبان کی جانب سے کسی نئے بڑے حملے کی خبر نہیں ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان بھی مذاکرات شروع کرنے پر نیم رضامند دکھائی دے رہے ہیں۔

تمام سات قبائلی ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں پشاور میں ایک اجلاس کیا تھا۔ البتہ اس جرگے کے خدوخال ابھی پوری طرح واضع نہیں ہیں۔

خیال ہے کہ حکومت اس جرگے کا باضابطہ اعلان کرنے سے پہلے اس کے بارے میں مقامی طالبان کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔

اس بات کا اشارہ صوبہ سرحد کے گورنر خلیل الرحمان اور وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی کے درمیان قبائلی علاقوں اور صوبے میں امان و امان کی صورتحال پر غور کے لیے ہونے والی ایک ملاقات میں سامنے آیا ہے۔ یہ ملاقات اتوار کوگورنر ہاوس میں ہوئی۔

گورنر خلیل الرحمان نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب فریقین کے درمیان اس جرگے کے اختیارات اور کردار پر اتفاق ہوجائے گا تو پھر ہی یہ جرگہ اپنا کام باقاعدہ طور پر شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ اس گرینڈ جرگے میں تمام سات قبائلی ایجنسیوں سے قبائلی عمائدین شامل ہوں گے۔

شمالی وزیرستان میں پائیدار امن کے قیام میں سیاسی جماعتوں کے کردار کے بارے میں گورنر کا کہنا تھا کہ امن کے حصول کے لیے کسی جانب سے بھی امداد کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

ملاقات کے بعد وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے صحافیوں کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال کا صوبے پر براہ راست پڑتا ہے۔ انہوں نے روایتی جرگے کو اپنا کرادار ادا کرنے کا موقع دینے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

وزیر اعلی کی جماعت جعمیت علمائے اسلام بھی شمالی وزیرستان میں کافی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ میر علی میں گزشتہ دنوں قبائلیوں کے ایک جرگے میں جے یو آئی کے توسط سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

اس سال مارچ میں امریکی صدر بش کے پاکستانی دورے سے چند روز قبل شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے سیدگئی میں پاکستانی فوج نے ایک بڑا چھاپہ مارا تھا۔ اس کے بعد میران شاہ میں مقامی طالبان نے ردعمل کے طور پر سرکاری دفاتر اور ٹیلیفون ایکسچینج پر قبضے کی کوشش کی تھی۔

ان واقعات کے بعد علاقے میں پُرتشدد کارروائیوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اب ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی کوششوں سے معمول بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد