وزیرستان: پچھتر لاکھ روپے تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی حکام نے بدھ کو القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے پندرہ افراد کے لواحقین میں پچھتر لاکھ روپے کا معاوضہ تقسیم کیا ہے۔ ہر ہلاک ہونے والے کے لواحقین میں پانچ لاکھ روپے کی یہ رقم صدر مقام وانا میں ایک جرگے میں تقسیم کی گئی۔ معاوضہ پانے والوں میں وزیر قبائل کے جنگجوؤں کے سابق سربراہ نیک محمد کے ساتھ میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے ان کے تین ساتھی بھی شامل تھے۔ رقم جنرل آفیسر کمانڈنگ پشاور میجر جنرل گل محمد نے تقسیم کی۔ اس موقعہ پر پولیٹکل ایجنٹ وانا منیر اعظم خان نے اپنی تقریر میں قبائلیوں کے مکانات اور فصلوں کے نقصانات بھی مرحلہ وار پورا کرنے کا وعدہ کیا تاہم انہوں نے قبائلیوں سے امن و امان برقرار رکھنے میں مدد بھی چاہی۔ وزیرستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران فوجی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ معاوضے کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ مقامی طالبان کا بھی حکومت سے امن کے بدلے میں متاثرین کو امداد دینے کا مطالبہ تھا۔ ادھر صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین افراد کو القاعدہ کے ساتھ روابط کے شبہ میں حراست میں لیا ہے۔ پشاور میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی منگل کے روز اس وقت کی گئی جب یہ تین افراد شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے بنوں شہر کی جانب آ رہے تھے۔ ان کی اصل شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ابتدائی تحقیق کے مطابق ان میں ایک تیونس جبکہ ایک افغان اور ایک پاکستانی بتایا جاتا ہے۔ تیونس کے باشندے کا نام عبدالرحمان یا سیف الدین بتایا جاتا ہے۔ مزید تفتیش ابھی جاری ہے جس کے لیئے ان تینوں کو پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ: جرگے کا حکم، مکان نذرِ آتش06 May, 2006 | پاکستان ’فوج کی موجودگی میں امن ناممکن‘06 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان میں غالب کون؟08 May, 2006 | پاکستان طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی پالیسی08 May, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان: چار ’طالبان‘ ہلاک08 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||