BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حقوق کی لڑائی کے لیئے بلوچ جرگہ

میر سلیمان داؤد احمد زئی
میر سلیمان داؤد احمد زئی کے لیئے خاندانی روایات کو زندہ کرنے کا ایک موقع
بلوچستان کے مقام قلات میں گزشتہ روز ہونے والے بلوچ قبائلی سرداروں کے جرگے کے ذریعے ایک ایسے ادارے یا فورم کے احیاء کی کوشش کی گئی ہے جس کا ذکر اب صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی ملنے لگا تھا۔

میر سلیمان داؤد احمد زئی کی طرف سے بلائے گئے اس جرگہ میں اطلاعات کے مطابق پچاسی بلوچ سرداروں اور تین سو کے لگ بھگ قبائلی معتبرین نے شرکت کی۔ سلیمان داؤد آخری خان آف قلات احمد یار خان کے پوتے ہیں۔

قلات تقسیم ہند تک ایک خود مختار ریاست کے طور پر نقشے پر موجود تھی۔ ریاست قلات میں مکران، لسبیلہ اور خاران کے علاقے آتے تھے جبکہ کوئٹہ، نوشکی، نصیرآباد، سبی اور بولان کے علاقے خان آف قلات نے برطانوی حکومت کو مستاجری پر دیئے ہوئے تھے۔ مستاجری پر دیئے گئے علاقوں کو بدیسی حکمرانوں نے فوجی اہمیت کے پیش نظر اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے لیئے سنہ اٹھارہ سو بہتر میں سو سالہ پٹے پر حاصل کیا تھا۔

خان آف قلات اپنے محل میں سالانہ جرگہ کیا کرتے تھے جس میں بیشتر بلوچ قبائلی سردار شرکت کرتے تھے۔ ان جرگوں کا بظاہر مقصد تو قبائل کے درمیان تنازعات نمٹانا ہوتا تھا لیکن ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا تھا کہ اس موقع پر تمام سردار خان آف قلات سے عہد وفاداری کا اعادہ بھی کرتے تھے۔

جرگوں میں چیف آف جھلاوان ( زہری قبیلے کے سربراہ) خان آف قلات کے دائیں طرف اور چیف آف ساراوان (رئیسانی قبیلے کے سربراہ) بائیں طرف بیٹھتے تھے۔ جرگہ میں کیئے گئے فیصلوں کا اعلان چیف آف جھلاوان کرتے تھے۔ اسی روایت کو گزشتہ روز ہونے والے جرگہ میں بھی دہرایا گیا۔

اگرچہ کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل خان آف قلات کی طرف سے آخری جرگہ سنہ اٹھارہ سو چھہتر میں بلایا گیا تھا، لیکن بلوچ تاریخ پر نظر رکھنے والے دانشور اللہ بخش بزدار کہتے ہیں کہ پندرہ ستمبر سنہ انیس سو ستاون کو خان آف قلات احمد یار خان نے ایک جرگہ بلایا تھا جس میں بلوچ سرداروں کی طرف سے ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔


اس جرگہ میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان خان آف قلات سے کیئے گئے معاہدے پر عمل کرے جس کی رو سے ریاست قلات کو اندرونی خود مختاری حاصل تھی۔

’معاہدہ جاریہ‘ کے نام سے سامنے آنے والے اس معاہدے پر اتفاق گیارہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کے روز دہلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی جبکہ خان آف قلات کے نمائندؤں اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

معاہدے کی رو سے ریاست قلات کی اندرونی خود مختاری کے علاوہ یہ طے کیا گیا تھا کہ مرکزی حکومت کے پاس صرف دفاع، خارجہ اور رسل و رسائل کے شعبے ہونگے جبکہ حکومت برطانیہ کو مستاجری پر دیئے گئے علاقوں کے مستقبل کے بارے میں دونوں فریقین (خان آف قلات اور حکومت پاکستان) کے نمائندؤں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن فیصلہ کرے گا۔ مزید یہ کہ قلات اور بلوچستان کے باقی حصوں کے بارے کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے خان آف قلات کی اجازت ضروری ہوگی۔

لیکن قیام پاکستان کے کچھ ماہ بعد ہی تیس مارچ انیس سو اڑتالیس کے روز پاکستانی افواج نے قلات پر حملہ کر کے ریاست کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پندرہ اپریل کے روز حکومت پاکستان کے نمائندے نےگورنر جنرل (قائد اعظم) محمد علی جناح کا ایک رقعہ خان آف قلات احمد یار خان کے حوالے کیا، جس کی رو سے انہیں ’خانِ خاناں‘ کے خطاب سے محروم اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے خان بہادر رشید زمان خان کو قلات میں پولیٹکل ایجنٹ مقرر کردیا گیا۔ صوبہ سرحد سے ہی تعلق رکھنے والے ظریف خان کو حکومت پاکستان نے ازخود خان آف قلات کا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔

خودمختاری کے چند ماہ کے دوران خان آف قلات نے ایوان بالا اور ایوان زیریں بھی تشکیل دیئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے الحاق کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ قلات میں ہونے والے فوجی آپریشن میں ریاست کے ایوان بالا اور ایوان زیریں کے نمائندوں اور قلات نیشنل پارٹی کی قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

ستمبر انیس سو ستاون میں جرگے سے ’اعتماد کا ووٹ‘ حاصل کرنے کے بعد احمد یار خان اس وقت کے گورنر جنرل سکندر مرزا کے پاس گئے اور انہیں جرگے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست قلات کے ساتھ کیئے گئے معاہدہ کی پاسداری کی جائے۔

سکندر مرزا نے خان کو پندرہ روز کے لیئے اپنا مہمان ٹھہراتے ہوئے تجویز دی کہ وہ اپنے مطالبے کے حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کریں۔ محققین کے مطابق اس دوران قلات میں ریاست کے جھنڈے لہرا دیئے گئے۔ لیکن جنرل ایوب کے مارشل لاء کے ساتھ ہی احمد یار خان کو حراست میں لے کر لاہور میں نظر بند کر دیا گیا۔ وہ چار سال تک نظر بند رہے۔

ستر کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برخاست کرکے نواب اکبر بگٹی کو گورنر بنا کر بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا۔ تاہم نواب بگٹی کے چند ہی ماہ میں مرکزی حکومت سے اختلافات پیدا ہوگئے جو ان کے استعفیٰ پر منتج ہوئے۔ بگٹی کی جگہ (خان آف قلات) احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا۔

سنہ انیس سو چھہتر میں کوئٹہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران وزیر اعظم بھٹو نے جب بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تو احمد یار خان بطور گورنر سٹیج پر تشریف فرما تھے۔

ضیاء دور میں احمد یار خان کے فرزند پرنس معین الدین وفاقی وزیر رہے اور موجودہ دور میں بھی خان آف قلات کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ افراد مختلف سطح پر حکومت میں شامل ہیں۔

خان آف قلات کے زیر اثر زیادہ تر براہوی زبان بولے جانے والے علاقے آتے ہیں جبکہ مری بگٹی سمیت بلوچی زبان بولے جانے والے علاقوں کے سرداروں نے تاریخی طور پر خان کی حاکمیت کو کم ہی تسلیم کیا ہے۔ ان قبائل کے سرداروں کو برطانوی دور کے ایک زیرک افسر رابرٹ سنڈیمن نے خان آف قلات کے دربار میں لے جانا شروع کیا تھا تاکہ خان کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔

گزشتہ روز ہونے والے جرگہ میں مری اور بگٹی قبائل کی طرف سے اگرچہ کوئی بھی موجود نہیں تھا لیکن جرگہ کی کارروائی کا آغاز اطلاعات کے مطابق نواب اکبر بگٹی کا ایک حالیہ انٹرویو حاضرین کو سنا کر کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نواب بگٹی کی پاکستانی فوج سے لڑتے ہوئے موت اور اس سے بلوچستان کے قوم پرست حلقوں میں پیدا ہونے والی غم و غصہ کی لہر نے سلیمان داؤد کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں اپنے خاندان کی گم گشتہ حیثیت کو بحال کر سکیں اور جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔

قلات میں ہونے والے جرگہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پسماندہ رہ جانے والے صوبہ بلوچستان میں حقوق کی لڑائی اب سیاسی اور قبائلی سطح پر ساتھ ساتھ لڑی جائے گی۔ اس قبائلی جرگہ میں پہلی دفعہ بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور طالبعلم رہمناؤں نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال
06 September, 2006 | پاکستان
قلات: الیکشن آفس نذرِ آتش
05 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد