BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 06:17 GMT 11:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قلات جرگے کا سات نکاتی اعلامیہ

خان قلات پرنس سلمان داؤد
جرگہ خان آف قلات سلمان داؤد کی سربراہی میں منعقد ہوا
بلوچستان کے شہر قلات میں سو سال سے زائد عرصے کے بعد منعقد ہونے والے گرینڈ قبائلی جرگے نے 1948 میں پاکستان سے الحاق کے وقت کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ جرگہ خان آف قلات سلمان داؤد کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے بلوچ سرداروں اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔ ان سرداروں میں نمایاں چیف آف جھلاوان سردار ثناءاللہ زہری، چیف آف سراوان نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سردار ذوالفقار مگسی، سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری شاوانی اور بببرک قبیلے کے سرداروں کے علاوہ کوئی اسی کے لگ بھگ قبائلی اور سیاسی رہنما موجود تھے۔

اس جرگے کے اختتام پر جمعرات۔جمعہ کی شب سات نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انیس سو چھالیس میں تاج برطانیہ اور پھر انیس سو اڑتالیس میں حکومت پاکستان سے الحاق اور دیگر معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ اس حوالےسے گرینڈ جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔

سات نکاتی اعلامیہ جاری
 اس جرگے کے اختتام پر جمعرات۔جمعہ کی شب سات نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انیس سو چھالیس میں تاج برطانیہ اور پھر انیس سو اڑتالیس میں حکومت پاکستان سے الحاق اور دیگر معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ اس حوالےسے گرینڈ جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔

جرگے نے بلوچستان کی حد بندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بلوچستان کا حصہ ہیں لہذا انہیں بلوچستان میں شامل کیا جائے۔

جرگے نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور لاش ورثاء کے حوالے نہ کرنے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سارے واقعے کی تحقیقات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی نگرانی میں کرائی جائیں۔

اعلامیہ کے مطابق گوادر اور دیگر بلوچستان کے علاقوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے وہ معاہدے منسوخ کیے جائیں جن میں بلوچوں کی رضامندی نہیں ہے وگرنہ اس سلسلے میں بھی بین الاقوامی عدالت انصاف سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

جرگے نے نواب اکبر بگٹی کی جائیداد میں سرکاری مداخلت اور اسے مخالفین میں تقسیم کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے وارث زندہ ہیں اور یہ ان کا حق ہے لہذا جائیداد نواب بگٹی کے خاندان کے حوالے کی جائے۔

جرگے نے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن بند کرنے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فوجی چھاؤنیوں کے قیام پر کام فوری طور پر روک دیا جائے۔ اس گرینڈ جرگے نے چوبیس اگست کو ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبائل کے سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والے جرگے اور کونسل کو مسترد کیا ہے اور اسے قبائلی معاملات میں حکومتی مداخلت قرار دیا ہے۔

بلوچوں کے اتحاد کی اپیلیں
 قبائلی سرداروں نے اپنی تجاویز میں تمام بلوچوں کو متحد ہونے اور ایک سیاسی جماعت بنانے پر زور دیا ہے۔ حکومت پاکستان پر سخت تنقید کی گئی اور کہا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد حکمرانوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلوچوں کو کچھ نہیں سمجھتے اور جیسا چاہیں ان کے ساتھ سلوک روا رکھ سکتے ہیں۔
جرگے کے اعلامیے کے بعد پنڈال میں موجود نوجوانوں نے ’آزادی آزادی‘ کی نعرے لگائے اور کافی دیر تک خان آف قلات کی رہائش گاہ میں موجود رہے۔

اس سے پہلے قبائلی سرداروں نے اپنی تجاویز میں تمام بلوچوں کو متحد ہونے اور ایک سیاسی جماعت بنانے پر زور دیا ہے۔ حکومت پاکستان پر سخت تنقید کی گئی اور کہا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد حکمرانوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بلوچوں کو کچھ نہیں سمجھتے اور جیسا چاہیں ان کے ساتھ سلوک روا رکھ سکتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب متحد ہو جائیں وگرنہ ایک ایک کرکے مار دیے جاییں گے۔

دریں اثناء صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا کہ یہ لارڈ سنڈیمن کا دور نہیں ہے بلکہ پاکستان کو بنے انسٹھ سال ہو چکے ہیں اور اس دوران سابق خان قلات میر احمد یار خان اور نواب اکبر بگٹی سمیت کئی بلوچ رہنما حکومت کرتے رہے ہیں اور اس وقت بھی کچھ حکومت میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی چاہتی ہے اور اس صوبے کو جدید دنیا کا حصہ بنانا چاہتی ہے اور اس راستے میں روایتی قوتیں سیاسی حوالوں سے رکاوٹیں ڈالنا چاہتی ہیں۔

تاریخی پس منظر
بلوچستان کو پہلا گھاؤ سن سینتالیس میں لگا
 ڈیرہ بگٹی میں اکبر بگٹی باہر سے ملنے آنے والوں کے ساتھبگٹی سے ملاقات
’بگٹی کی ہلاکت کے اثرات مرتب ہوں گے‘
ترجمان سےانٹرویو
بگٹی کے بعد کس کی باری ہے؟
تصویروں میں
ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر کی تدفین
ملوک ہو یا محمود
بات تو وہی ہے کہ تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا
بگٹیبگٹی کی ہلاکت
نیویارک ٹائمز کا اداریہ: مشرف حکومت پر تنقید
کون کس کی مثال
نواب اکبر: مزاحمت اور المناکی کا تسلسل
اسی بارے میں
نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک
01 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد