BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کی ہلاکت پر 50 کروڑ کانقصان

فسادات پر دانشمندی سے قابو پایا: بلوچستان حکومت ترجمان
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد توڑ پھوڑ اورجلاؤ گھیراؤ کے دوران پچاس کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

وزیر اعلی سیکریٹریٹ میں ایک اخباری کانفرنس میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ فسادات کے دوران سرکاری عمارتوں کے علاوہ بینکوں، ٹیلیفون، ایکسچینج سکول اور دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔صرف بلوچستان یونیورسٹی کی سولہ بسوں کو نذر آتش کیا گیا ہے جن کی اس وقت مالیت کوئی چھ سے سات کروڑ روپے بنتی ہے۔

اسی طرح سریاب روڈ پر آنکھوں کے ایک ہسپتال کو نقصان پہنچایا گیا ہے جہاں کوئی چونسٹھ لاکھ روپے مالیت کی مشینری جلائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال علاقے کے غریب لوگوں کو مفت طبی سہولت فراہم کرتا تھا لیکن اب شاید یہ ہسپتال بند کیا جا رہا ہے۔

یہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کوئٹہ کے علاوہ گوادر تربت، پنجگور، خضدار، قلات، نوشکی، مستونگ اور دالبندین کے اضلاع میں کی گئی تھی۔ رازق بگٹی نے کہا کہ نقصانات کی تفصیلات کے لیئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو صحیح تخمینہ لگائے گی اور جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے جمہوری وطن پارٹی کے قائد اور بگٹی قبیلے کے رہنما کو فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا ہے تو حکومت کو کیا توقع تھی کے اس کا رد عمل کیسا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کو سکیورٹی فورسز ہلاک نہیں کرنا چاہتے تھیں یہ سب اتفاقیہ طور پر ہوا ہے اور توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سے جو نقصان ہوا ہے اس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

رازق بگٹی نے کہا کہ حکومت نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے فسادات پر دانشمندی سے قابو پایا وگرنہ بعض قوتیں یہ چاہتی تھیں کہ مزید لاشیں گریں جن پر وہ پھر آئندہ کی سیاست کر سکیں۔

حکومت نے لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور مقدمے درج کیے گئے ہیں لیکن ان میں سیاسی کارکن اتنے نہیں ہیں بلکہ ان فسادات میں لوٹ مار کرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اکبر بگٹی کی بات
’پوتے اور نواسے مِشن آگے بڑھائیں گے‘
حملے کی زد میں
بگٹی پر گزشتہ سال بھی بمباری ہوئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد