بگٹی کی ہلاکت پر 50 کروڑ کانقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد توڑ پھوڑ اورجلاؤ گھیراؤ کے دوران پچاس کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وزیر اعلی سیکریٹریٹ میں ایک اخباری کانفرنس میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ فسادات کے دوران سرکاری عمارتوں کے علاوہ بینکوں، ٹیلیفون، ایکسچینج سکول اور دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔صرف بلوچستان یونیورسٹی کی سولہ بسوں کو نذر آتش کیا گیا ہے جن کی اس وقت مالیت کوئی چھ سے سات کروڑ روپے بنتی ہے۔ اسی طرح سریاب روڈ پر آنکھوں کے ایک ہسپتال کو نقصان پہنچایا گیا ہے جہاں کوئی چونسٹھ لاکھ روپے مالیت کی مشینری جلائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال علاقے کے غریب لوگوں کو مفت طبی سہولت فراہم کرتا تھا لیکن اب شاید یہ ہسپتال بند کیا جا رہا ہے۔ یہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کوئٹہ کے علاوہ گوادر تربت، پنجگور، خضدار، قلات، نوشکی، مستونگ اور دالبندین کے اضلاع میں کی گئی تھی۔ رازق بگٹی نے کہا کہ نقصانات کی تفصیلات کے لیئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو صحیح تخمینہ لگائے گی اور جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ان کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے جمہوری وطن پارٹی کے قائد اور بگٹی قبیلے کے رہنما کو فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا ہے تو حکومت کو کیا توقع تھی کے اس کا رد عمل کیسا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کو سکیورٹی فورسز ہلاک نہیں کرنا چاہتے تھیں یہ سب اتفاقیہ طور پر ہوا ہے اور توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سے جو نقصان ہوا ہے اس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ رازق بگٹی نے کہا کہ حکومت نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے فسادات پر دانشمندی سے قابو پایا وگرنہ بعض قوتیں یہ چاہتی تھیں کہ مزید لاشیں گریں جن پر وہ پھر آئندہ کی سیاست کر سکیں۔ حکومت نے لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور مقدمے درج کیے گئے ہیں لیکن ان میں سیاسی کارکن اتنے نہیں ہیں بلکہ ان فسادات میں لوٹ مار کرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||