’بگٹی مشرف کی ایما پر قتل ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادوں جمیل اکبر بگٹی اور طلال اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ان کے والد نواب اکبر بگٹی کو صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کی ایما پر قتل کیا گیا ہے۔ اس بارے میں ایف آئی آر درج کرکے متعلقہ حکام اور عالمی ادارے تفتیش کو یقینی بنا کر ملزمان کے خلاف کارروائی کریں۔ کوئٹہ کے بگٹی ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ ایف آئی آر میں صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ وزیر اعظم شوکت عزیز، گورنر اور وزیر اعلی، بلوچستان، کور کمانڈر اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور شامل کیئے جائیں۔ جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ وہ یہ بیان ایف ائی آر کے لیے سامنے لارہے ہیں جس میں کچھ عرصہ پہلے جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کا نام لے کر دھمکی دی تھی کہ ’ان تین سرداروں کو ایسا ہٹ کروں گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کیونکہ یہ انیس سو اکہتر کا زمانہ نہیں ہے۔‘ اس کے علاوہ انہوں نے اخبارات اور دیگر میڈیا کے ذریعے ستائیس اگست دو ہزار چھ کو نواب اکبر بگٹی کے قتل میں حصہ لینے والی ٹیم کو مبارکباد دی تھی۔ جمیل بگٹی نے کہا: ’ہمارے والد کو ہماری غیر موجودگی میں ڈیرہ بگٹی میں سپرد خاک کرنے کا اعلان یکم ستمبر دو ہزار چھ کو میڈیا میں کیا گیا۔ انہیں غسل کفن کے بغیر دفنا کر اسلامی اصولوں کی پامالی کی گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے جسم پر آنے والے زخموں کو چھپا کر حکومت نے ’ہمارے والد کے قتل ے اسباب کو بھی دفنا دیا ہے جبکہ یہ جاننا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے۔‘ جمیل بگٹی نے کہا ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کے ادارے اپنی نگرانی میں قبر کشائی کرکے بین الاقوامی میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کی موت کے اسباب معلوم کرکے قانون کے تقاضے پورے کریں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ تھانے کیوں نہیں گئے تو انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ پولیس اہلکار ایک پولیس افسر کے خلاف رپورٹ درج نہیں کرتے تو ان کے والد کے بارے میں رپورٹ کب درج ہو سکے گی۔ نواب اکبر بگٹی کے پوتوں براہمدغ بگٹی اور میر عالی بگٹی کے بارے میں ایک سوال پر بتایاگیا کہ کہا کہ وہ خیریت سے ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی سے جب اراکین اسمبلی کے استعفوں کے حوالے سے پوچھا گیا تو سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے بتایا کہ اس وقت فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے ۔اس سے فارغ ہو کر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جمہوری وطن پارٹی اے آر ڈی کا حصہ ہے اور مستقبل کا فیصلہ اتحاد میں شامل جماعتیں کریں گی۔ | اسی بارے میں بگٹی کی موت: قوم پرستی میں نئے دور کا آغاز27 August, 2006 | منظر نامہ بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال 06 September, 2006 | پاکستان احتجاج پر متعدد گرفتاریاں05 September, 2006 | پاکستان بلوچستان: مظاہرے، توڑ پھوڑ، گرفتاریاں02 September, 2006 | پاکستان بلوچستان کا بگٹی امر ہو گیا؟01 September, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||