بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بدھ کو متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔ یہ ہڑتال نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور ان کی میت ورثاء کے حوالے نہ کیے جانے کے خلاف کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے اکثر اضلاع میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اہم شاہراہوں پر مختلف مقامات پر مظاہرین نے سڑکیں بلاک کی ہوئی ہیں۔ قلات، خضدار اور حب کے مقامات پر کوئٹہ کو کراچی سے منسلک کرنے والی شاہراہ بلاک کی گئی ہے جبکہ کوئٹہ سے جیکب آباد کے راستے لاہور جانے والی شاہراہ ڈیرہ مراد جمالی اور دیگر مقامات پر بند ہیں۔ اسی طرح صوبے کے شمالی علاقوں کی طرف جانے والی شاہراہ کو کچلاک کے مقام پر بلاک کیا گیا ہے جہاں مقامی قائدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مکران ڈویژن کے شہر گوادر تربت پسنی اور پنجگور میں مکمل ہڑتال ہے لیکن کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ ہڑتال حزب اختلاف میں شامل جماعتوں جیسے اپنے آپ کو محکوم کہلوالے والی قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر کی جا رہی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے تین ستمبر سے احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے اور یہ ہڑتال اسی تحریک کا حصہ ہے۔ ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین کی بلوچستان اسمبلی میں پیش کیئے گئے استعفے منظورکر لیئے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||