بلوچستان کا بگٹی امر ہو گیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان کے عوام اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے لاکھوں بلوچوں کے لیئے وہی حیثیت اختیار کر گئے ہیں جو اب سے پہلے صرف میر چاکر خان کا خاصہ تھی۔ اب ان کا ذکر بھی بلوچی اور براہوی لوک گیتوں میں آئے گا اور پاکستان بھر میں ان کا نام ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر لیا جائے گا۔ اگرچہ بلوچ جنگجو نوروز خان اور عبدالکریم بھی مرکز کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے لیکن ان کا نام بلوچ حلقوں کے باہر کوئی شناخت نہیں بنا سکا۔ انگریز مصنف ایڈورڈ اولیور نے 1890 میں لکھا کہ جنگ ایک جنٹلمین کا پہلا کام ہے اور ہر بلوچ ایک جنٹلمین ہے۔ اس لحاظ سے نوروز خان اور عبدالکریم اور ان جیسے دیگر بڑے بڑے جنگجوؤں کا کام بلوچ روایات کا نمائندہ تو ہے لیکن کوئی نئی تاریخ رقم نہیں کرتا۔ حکومت نے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے ان کی تدفین کو ایک بہت بڑا مسئلہ بنا دیا اور جمعہ کے روز جس بے تکریمی سے ان کی لاش کو ڈیرہ بگٹی کے قبرستان میں منوں مٹی کے نیچے دبا دیا گیا اس سے قدیم یونان میں پولینس کی لاش سے ہونے والی بدسلوکی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ پولینس کی تدفین کی تیب کے بادشاہ کی طرف سے اس لیئے ممانعت کر دی گئی تھی کہ عوام اس سے عبرت حاصل کریں۔ نواب اکبر بگٹی کو قدیم یونانی ہیرو کے رنگ میں رنگنے کا سارا کریڈٹ حکومت کو نہیں دیا جا سکتا۔ نواب بگٹی میں ہمیشہ سے کچھ نہ کچھ ایساضرور تھا جو انہیں دیگر قبائلی سرداروں سے ممتاز کرتا تھا۔ بی بی سی کی سابق نامہ نگار اور کتاب ’دی ٹائیگرز آف بلوچستان‘ کی مصنفہ سِلویا میتھیسن نواب اکبر بگٹی سے آج سے ساٹھ سال پہلے سن انیس سو چھیالیس میں ملی تھیں۔ وہ لکھتی ہیں:- ’سردار اکبر شہباز خان بگٹی کی ایک جھلک دیکھ کر کسی بھی رومانوی ذوق رکھنے والی لڑکی کی آنکھوں کو تسکین پہنچتی۔ چھ فٹ سے کچھ بڑھ کر دراز قد، وجاہت سے مزین چہرہ مہرہ، گھنے اور چمکیلے سیاہ گھنگریالے بال، نہایت موزوں چھدری ہوئی داڑھی، خوبصورت اور ذہانت سے بھرپور آنکھیں، حسِ مزاح اور دلکش ناک نقشہ۔ غرض ایسا شخص کہ آپ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔‘ آپ ہزار بار اسے جابر اور ظالم قبائلی سردار کہیں جس نے بارہ سال کی عمر میں اپنی زندگی کا پہلا قتل کیا تھا، لیکن یہ وہی نواب اکبر بگٹی ہی تھا جس نے ابراہم لنکن کی پیروی میں 1948 میں بگٹی قبائل کے قبضے میں موجود ہزاروں غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بگٹی غلام ان مرہٹہ قیدیوں کی اولاد ہیں جنہیں مغل شہنشاہ ہمایوں نے سولہویں صدی کے وسط میں دلی پر قبضے کے دوران گرفتار کرکے انعام کے طور پر بلوچ سردار میر چاکر خان کے حوالے کر دیا تھا۔ میر چاکر خان نے ان چالیس ہزار قیدیوں کو جنگ میں اپنی مدد کرنے والے سرداروں میں بانٹ دیا تھا۔ ان کے مخالفین ان کی نیپ حکومت کی برطرفی کے بعد بلوچستان کاگورنر بننے کو ان کے اسٹیبلشمنٹ کا حامی ہونے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ بظاہر نواب بگٹی کو بھی اپنے گورنر بننے پر کوئی بہت زیادہ فخر نہیں تھا۔ ہمارے بزرگ ساتھی علی احمد خان سے ایک بات چیت کے دوران بگٹی نے کہا تھا ’نیپ والوں نے مجھ پر جو تہمتیں لگائی تھیں ان پر ردعمل کے طور پر میں یہی کرسکتا تھا اس لیئے کہ میری رگوں میں بھی بلوچ خون دوڑ رہا ہے۔‘ دوسری طرف جہاں تک نواب اکبر بگٹی کے ہاتھوں اپنے بھائی احمد نواز بگٹی کے قتل کا سوال ہے تو اس کا جواب بلوچستان میں رائج سرداری نظام اور بگٹی روایات میں بہتر طور پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ خود نواب اکبر بگٹی کے والد مہراب خان بگٹی اپنے سوتیلے کے بھائی کے ہاتھوں زہر خوانی کا شکار ہوئے تھے۔ بلوچستان کے معاملات پر اتھارٹی سمجھے جانے والے نیوزی لینڈ کے تجزیہ نگار پال ٹیٹس کے مطابق ہٹ دھرمی اور انتقام بگٹی قبائلی ذہنیت کے اہم عناصر ہی نہیں بلکہ بگٹی معاشرے اور اس کی تاریخ کے بنیادی ستون ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||