نسیم زہرہ کا ستارہ امتیاز سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی صحافی اور تجزیہ نگار نسیم زہرہ نے حکومت کی طرف سے ستارہ امتیاز کے لیئے اپنی نامزدگی کو اکبر بگٹی کے قتل کے خلاف احتجاجاً قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نسیم زہرہ کو پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز ستارہ امتیاز کے لیئے ماہ رواں ملک کے یوم آزادی یعنی چودہ آگست کو نامزد کیا گیا تھا جو انہیں آئندہ تئیس مارچ میں ملنا تھا۔ ’ہمارے ہاتھ میں تو فقط قلم ہے اور ہم ملک میں ناانصافیوں اور عوام کے حقوق کی پامالی پر احتجاج صرف اسی طریقے سے ہی کرسکتے ہیں‘۔ ان الفاظ کا اظہار نسیم زہرہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی خصوصی بات چیت میں کیا۔
نسیم زہرہ آج کل واشنگٹن میں مقیم ہیں اور جان ہاپکنز یونیورسٹی میں پڑھاتی رہی ہیں۔ انہوں نے منگل کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’طاقت بلوچستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے اور اکبر بگٹی کا قتل ایک بہت بڑے سیاستدان کو ختم کرنے کا غیر سیاسی حل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب تک ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے نتائج بھگت رہا ہے اوراب یہ سکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں بگٹی کے قتل کا سانحہ ہوگیا۔ انہوں کہا کہ اکبر بگٹی جیسے ممتاز سیاسی رہنما کو غیر سیاسی طریقے سے ختم کرنے سے ملک کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا اور وہ اسی کے خلاف اپنا احتحجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے ستارہ امتیاز قبول کرنے سے انکار کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’قومیں اپنے سیاسی رہنماؤں کو قتل نہیں کیا کرتیں‘۔ نسیم زہرہ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی بلوچستان پر بنائی ہوئی سفارشات ایک متفقہ دستاویز تھا جس پر عاصمہ جہانگیر سے لے کر حکومت اور اکبر بگٹی تک سب ہی متفق تھے لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ اس پر عمل کے بجائے حکومت نے طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غالباً آئینی پیکج اور صوبائی خودمحتاری پر آئینی ترامیم مسئلے کے سیاسی حل میں ’رکاوٹ‘ بنے۔ تاہم نسیم زہرہ کا کہنا تھا کہ فوجی ہونے کے باجود مشرف حکومت نے بلوچستان کے لیئے وسائل کی تقسیم مثالی پیمانے پر کی ہے لیکن بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ’جو الزامات اکبر بگٹی پر لگائے گئے ہیں وہ اس سے پہلے ایم کیو ایم پر بھی لگائے جاتے رہے ہیں لیکن ایم کیو ایم اب اسٹیبلشمینٹ کی اتحادی ہے۔ اسی کی دہائی میں ایم کیو ایم کے متعلق حکومت کیا کچھ کہتی رہی۔ نوے کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ ان پر بھی ہندوستان کے ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاتی رہی‘۔
نسیم زہرہ پاکستان اور بیرون ملک اپنے تجزیوں اور مضامین کے حوالے سے ماضی قریب تک مشرف حکومت کی پالیسیوں کی بڑی حمایتی سمجھی جاتی تھیںآ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اکبر بگٹی کی سیاست اور شخصی اعمال سے اتفاق نہیں کرتی تھیں جن میں ان کی خانگي جیلیں اور ملیشیا وغیرہ رکھنا بھی شامل تھے لیکن وہ کئي بار عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکو ملک کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ وقت قبل تک نسیم زہرہ پاکستان کے قومی کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی ترجمان تھیں۔ نسیم زہرہ نے کہا کہ اکبر بگٹی کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ حزب اختلاف کو پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے نواب بگٹی کے سکیورٹی ایجینسیوں کے ہاتھوں مارے جانے پر میرے پاس احتجاج کا ایک ہی طریقہ بچتا ہے کہ احتجاجاً اپنا ستارہ امتیاز لینے سے انکار کردوں‘۔ نسم زہرہ پاکستان میں دوسری لکھنے والی ہیں جنہوں نے بلوچستان پر مشرف حکومت کی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے اعلٰی حکومتی اعزاز لینے سے انکار کردیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل شاعر احمد فراز نے بھی بلوچستان پر مشرف حکومت کی پالیسوں کے خلاف احتجاجاً حکومتی اعزاز واپس کردیا تھا جبکہ صحافی عامر میر نے صحافتی کارگردگی پر اے پی این ایس سے ملنے والا اعزاز فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں لینے سے انکار کردیا تھا۔ نسیم زہرہ ان دنوں امریکہ میں ہیں اور پاکستان پر کتاب لکھ رہی ہیں جس کے لیئے وہ اگلے ماہ ہارورڈ یونیورسٹی منتقل ہوجائیں گی۔ |
اسی بارے میں ’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز23 July, 2006 | پاکستان یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں27 August, 2006 | پاکستان مشرف پاکستان کی جان چھوڑیں: نواز 27 August, 2006 | پاکستان مفاہمت کا کوئی امکان نہیں: مینگل27 August, 2006 | پاکستان ’میں ڈائیلاگ کی بات کہتا رہا‘27 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی موت پر’سانا‘ کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت:اے این پی کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||