BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز
احمد فرازکے خط کا عکس
جنرل مشرف نے اسی راستے پر چلنے کا عہد دھرایا جس پر چلتے ہوئے انیس سواکہتر میں ملک ٹوٹ گیا تھا: احمد فرازکے خط کا عکس
پاکستان میں اردو زبان کے ممتاز شاعر احمد فراز نے موجودہ حکومت کی طرف سے دیے جانے والا اعلیٰ شہری اعزاز ’ہلال امتیاز‘ واپس کردیا ہے۔
حکومت کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے احمد فراز نے کابینہ ڈویژن کے سیکرٹری کو ایک خط لکھا۔ ذیل میں انگریزی میں لکھے گئے اس خط کا اردو ترجمہ دیا جا رہا ہے۔



جناب سیکرٹری صاحب:

حکومت نے مجھے ادب کے میدان میں سنہ دو ہزار چار کے لیئے ہلال امتیاز (سول) کا اعزاز دیا تھا۔ہلالِ امتیاز جیسے ایوارڈ کا ملنا کسی بھی لکھنے والے کے لیے بہت وقار کی بات ہے۔

تاہم مجھے ہمیشہ کسک رہی ہے کہ مجھے یہ اعزاز ایک ایسی حکومت کی طرف سے ملا ہے جس نے عوام کو بنیادی جمہوری حقوق سے محروم رکھا ہے۔ یہ اعزاز قبول کرتے ہوئے مجھے امید تھی کہ حسب وعدہ جلد ہی لوگوں کے حقوق بحال کر دیے جائیں گے لیکن بدقسمتی سے آئین کی حرمت اور جمہوری حکمرانی کے شعار کو بوٹوں کے نیچے کچل دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ عرصے میں حکومت عوام کے خلاف لڑتی رہی ہے اور ان کا خون بہاتی رہی ہے۔

جو کچھ بلوچستان اور وانا میں ہو رہا ہے اسے دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا رہا ہے لیکن میں دل ہی دل میں امید کر رہا تھا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے اور سنہ انیس سو اکہتر جیسی صورتحال نہیں پیدا ہوگی۔

گزشتہ منگل کو قوم سے خطاب میں جب جنرل مشرف نے اسی راستے پر چلنے کا عہد دہرایا جس پر چلتے ہوئے انیس سواکہتر میں ملک ٹوٹ گیا تھا، تو مجھے شدید مایوسی ہوئی۔

میں اپنے ذہن کی آنکھ سے دیکھ سکتا ہوں کہ اس قسم کی حکومت سے ایوارڈ لینا میرے لیے باعث تکریم ہونے کی بجائے بدنامی میں بدل چکا ہے۔ میں پاکستان کے لوگوں کی طرف سے دی گئی محبت، عزت اور توصیف کو اس ایوارڈ سے بڑا سمجھتا ہوں جو ایک ایسی غیرجمہوری، غیر نمائندہ اور ظالم حکومت کی طرف سے ملا ہو جسےمسلح افواج کے استعمال اوران کے استحصال سے طاقت ملتی ہو اور جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے سے انکار کرے۔

اگر میں، ہمارے ارد گرد جو ہو رہا ہے اسے خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہوں تو میرا ضمیر مجھے معاف نہیں کرے گا۔ کم از کم میں اتنا کر سکتا ہوں کہ آمریت کو یہ بتاؤں کہ اس ملک کا درد رکھنے والے افراد کی نظروں میں اس کی کیا عزت ہے۔

میں ایسا کرنے کے لیے ’ہلال امتیاز‘ فوری طور پر واپس کرتا ہوں اور خود کو موجودہ حکومت کی ہر بات سے الگ کرتا ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ ظلم کے خلاف میری اکیلی آواز سے شاید کچھ بھی حاصل نہ ہو لیکن میں اپنے اندر کی اس آواز کو دبا بھی نہیں سکتا جو بنیادی آئینی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی آواز ہے۔

امید ہے کہ میرے اس عمل سے اس جیسی لاکھوں اُن آوازوں کو بھی تقویت ملے گی جن کا مطالبہ ظلم اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہے۔

دستخط: (احمد فراز)

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد