BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فراز اب تو ذرا سی زمانہ سازی سیکھ‘

گھر
وہ گھر جس احمد فراز اور ان کے اہلِ خانہ کو کو بے گھر کیا گیا
پاکستان حکومت نے اردو زبان کے مشہور شاعر احمد فراز کی سرکاری رہائش گاہ سے ان کا سامان نکال کر سڑک پر پھینک دیا اور زبردستی مکان خالی کرالیا ہے۔

یہ مکان ان کی بیگم ریحانہ گل کے نام تھا جو دو برس قبل ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوچکی ہیں اور نوٹس ملنے کے باوجود بھی مقررہ مدت تک مکان خالی نہیں کیا تھا۔ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بھی ملازم چھ ماہ تک مکان رکھنے کا مجاز ہوتا ہے۔

احمد فراز ان دنوں برطانیہ میں ہیں اور جب بی بی سی نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ خود سرکاری ملازم ہیں اور ایک ادارے’نیشنل بک فاؤنڈیشن، کے سربراہ ہیں اور ان کا حق بنتا ہے کہ اگر بیوی ریٹائر ہوں تو مکان انہیں الاٹ کیا جائے۔

احمد فراز نے مزید بتایا کہ انہوں نے مکان اپنے نام الاٹ کرانے کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے رکھی ہے۔ ان کے بقول وزیر برائے ہاؤسنگ سید صفوان اللہ مکان کسی اپنے بندے کو دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین ہفتے پہلے انہیں وزیراعظم شوکت عزیز نے رات کو گیارہ بجے فون کیا اور کہا کہ ’مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ آپ سے زبردستی مکان خالی کرانا چاہتے ہیں، لیکن میں نے انہیں روک دیا ہے‘۔

احمد فراز کے مطابق جب وزیراعظم نے انہیں تسلی دی تو وہ برطانیہ آگئے اور جب وزیراعظم ملک سے باہر دورے پر گئے تو وزیر کے حکم پر اچانک ان کا سامان گھر سے نکال کر سڑک پر پھینک دیا گیا اور زبردستی اہل خانہ کو گھر سے بے دخل کرکے قبضہ کر لیا گیا۔

وزیراعظم نے بھی تھا کہا لیکن
 ’مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ آپ سے زبردستی مکان خالی کرانا چاہتے ہیں، لیکن میں نے انہیں روک دیا ہے‘۔

پیر کی شام ہونے والی اس کارروائی کے بعد احمد فراز کے اہل خانہ نے ایک’گیسٹ ہاؤس، میں رات گزاری جبکہ گھر کا پورا سامان نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دفتر منتقل کردیا گیا۔

احمد فراز نے کہا کہ حکومت کے ایسے عمل سے انہیں صدمہ پہنچا ہے اور بالخصوص جب وہ ملک سے باہر ہیں اور سخت بیمار بھی، اس وقت ایسا کیا گیا۔

انہوں نے بتایا ان کا ذاتی مکان بھی اسلام آباد میں ہے جو انہوں نے فرانسیسی سفارتکار کو کرائے پر دیا تھا اور اب وہ خالی نہیں کر رہے، جس پر انہوں نے مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

ادھر جب وفاقی وزیر ہاؤسنگ سید صفوان اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ احمد فراز جس ادارے کے سربراہ ہیں وہ قواعد کے مطابق سرکاری رہائش گاہیں حاصل کرنے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

جب وزیر سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں چار سو سرکاری مکانات پر پولیس اور دیگر محکموں کے ملازم غیر قانونی قابض ہیں کیا آپ نے ان خلاف کوئی کارروائی کی؟ تو وزیر نے کہا کہ سب کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور غیرقانونی قابضین سے مکان خالی کرائے جا رہے ہیں۔

احمد فراز کے اہل خانہ کی بے دخلی کی ملک بھر کے ادیبوں، شعراء اور دانشوروں نے مذمت کی ہے اور آج شام اسلام آباد میں احتجاج کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے ایک اجلاس بھی ہورہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد