احمد فرازسرکاری عہدے سےفارغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے اردو زبان کے مشہور شاعر احمد فراز کو پاکستان نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ حکومت نے احمد فراز کی جگہ افتخار عارف کو پاکستان نشنل بک فاؤنڈیشن کا ایم ڈی مقرر کیا ہے۔ تہتر سال احمد فراز کو انیس سو چورانوے میں اُس وقت کی وزیر اعظم بینظر بھٹو نےاحمد فراز کی تقرری نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی کے طور پرکی تھی لیکن جب ان کی معیاد ختم ہوئی تو اس وقت کے نگران وزیر اعظم معراج خالد ان کی ’تاحکم ثانی‘ تقرری کر دی۔ وزات تعلیم کے ترجمان مبشر حسن نے احمد فراز کو ہٹائے جانے کے بارے میں کہا کہ احمد فراز کی عمر کافی ہو چکی تھی اور وہ بیمار رہتے تھے جس کی وجہ سے اُن کو ہٹایا گیا ہے۔ احمد فراز گیارہ سال تک اپنے اس عہدے پر برقرار رہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پرسوں یہ اطلاع دی گئی کہ اُن کو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ احمد فراز نے اپنے اس عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا ’میں نے کچھ دن پہلے نجی ٹیلی وژن چینلز کو بعض انٹرویو دیے جس میں نے کہا کہ فوج کا ایک حد تک کردار ہے کیونکہ میں اس بات کی حمایت نہیں کرتا کہ فوج ایک خاص رول سے باہر بھی کام کرے اور شاید یہی وجہ بنی مجھ ہٹانے کی‘۔ احمد فراز نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اُن کے دور میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے بہت ترقی کی اور ان کے آنے سے پہلے یہ ادارہ خسارے میں چل رہا تھا لیکن احمد فراز کے بقول گزشتہ مالی سال کے دوران نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے دو سو ملین روپے کمائے جو ایک ریکارڈ ہے۔ احمد فراز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لکھنے کا عمل جاری رکھیں گے اور ان اس عہدے سے ہٹائے جانے سے ان کے عملی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ احمد فراز کو گذشتہ سال پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ان کو ستارہ امتیاز بھی مل چُکا ہے۔ احمد فراز نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے علاوہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور لوک ورثہ میں بھی کام کر چُکے ہیں۔ پاکستان نیشنل بُک فاؤنڈیشن وزات تعلیم کے تحت کام کرتا ہے اور جب وزات تعلیم سے احمد فراز کے ہٹائے جانے کی وجہ پوچھی گئی تو وزات تعلیم کے ترجمان مبشر حسن کا کہنا تھا کہ احمد فراز ستر برس سے زیادہ عمر کے ہیں اور وہ بیمار بھی رہتے تھے جس کی وجہ سے اُن کو ہٹایا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب کہ کیا احمد فراز کو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی کے عہدے سے ہٹانے سے پہلے تین مہینے کا نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں تھا تو مبشر حسن کا کہنا تھا کہ احمد فراز کنٹریکٹ پر تھے اور ان کے کنٹریکٹ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ان کو کسی وقت بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزات تعلیم کے ترجمان کے مطابق احمد فراز کی جگہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیرمین افتخار عارف کو نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا اضافی چارج دیا گیا ہے اور بہت جلد نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی کی آسامی پر مستقل تقرری کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||