’ ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہلی کے تجارتی مرکز پرگتی میدان میں یوں تو ہر برس کتاب میلہ لگتا ہے لیکن اس بار پاکستانی ناشرین کی بڑی تعداد اس میں حصہ لینے آئی ہے اور پاکستانی کتابیں عوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ میلے میں ایک درجن سے زائد پاکستانی اسٹالز ہیں جنہیں ایک ہال میں خصوصی جگہ دی گئی ہے۔ اس میلے میں شرکت کے لیے پاکستان کی جانب سے ناشرین، ادیبوں اور دانشوروں پر مشتمل تقریبا دو سو افراد کا وفد ہندوستان آیا ہے۔ وفد کی قیادت مشہور شاعر احمد فراز کر رہے ہیں۔ پاکستان کے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے مختلف شہروں سے تقریبا ایک سو ساٹھ ناشروں کی کتابیں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ نمائش میں احمد فراز بھی موجود تھے جنہوں نے بی بی سی کے ساتھ بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان امن کی فضا بحال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سفیر حرف، لفظ اور کتاب ہوتی ہے اور جب کتابوں کا آپس میں تبادلہ ہوگا تو لوگ پڑھ کر ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہ ہوں گے جس سے حالات مزید بہتر ہرسکتے ہیں۔ احمد فراز کے مطابق لاعلمی کے سبب دونوں ہی جانب غلط فہمیاں ہیں جن کا ازالہ کتابیں کرسکتی ہیں۔ اردو اور ہندی کے تعلق سے انکا کہنا تھا کہ کوئی زبان مرتی تو نہیں ہے لیکن دونوں ہی کو نقصان ضرور پہنچا ہے انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں جہاں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ نکال دیۓ گیۓ ہیں وہیں ہندوستان میں اردو کے بہت سے الفاظ حزف کردیے گیے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ ہندوستانی فلموں میں اردو زبان کا عکس آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا زکر کرتے ہوئے احمد فراز نے اپنی نظم ''ہندوستانی دوستوں کے نام'' سے یہ شعر پڑھے، تمہارے دیس میں آیا ہوں دوستو اب کہ میلے کے پہلے ہی دن پاکستانی اسٹالوں پر زبردست بھیڑ تھی ایک سفید ریش بزرگ کا کہنا تھا کہ کئی ہندوستانی مصنفین کی کتابیں پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح بہت سے پاکستانی ادیبوں کی کتابیں ہندوستان میں نہیں ہیں جستجو دونوں ہی جانب ہے اور ایسے مواقع سے ہم سبھی مستفید ہوتے ہیں۔ کراچی کے ایک پبلشر جمشید مرزا کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں لوگ انکی کتابیں لائن میں کھڑے ہوکر خریدتے ہیں۔ ایک خاتون خریدار نے بتایا کہ نمائش میں پہلے دن آنا اس لیے بہتر ہے کیونکہ بعد میں کتابوں کی قلت ہو جاتی ہے۔ تقریبا ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس کتاب میلے میں ہندوستان کی جانب سے بھی اسٹال لگائے گئے ہیں ۔ لیکن پاکستانی اسٹالوں پر دینیات، شاعری، اردو ادب، پاکستانی کھانے اور تہذیب و ثقافت جیسے موضوعات پر کتابیں سبھی کے توجہ کا مرکز ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||