BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹیوں کو باہر سے اسلحہ ملتا تھا‘

’افغانستان میں بھارتی سفارتی عملے کی بڑے پیمانے پر موجودگی باعثِ تشویش ہے‘
پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ بگٹی قبائل کو بھاری اسلحہ باہر سے فراہم کیا جاتا تھا اور اس میں بھارت کا نام سرفہرست آتا ہے۔

پیر کی شام کو غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے افغانستان میں بھارت کے سفارتی عملے کی بڑے پیمانے پر موجودگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہ مناسب وقت پر بھارت اور افغانستان سے کے ساتھ یہ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں پندرہ لاکھ بھارتی باشندے ہیں لیکن وہاں ان کے تین قونصل خانے ہیں جبکہ امریکہ اتنا بڑا ملک ہے اور وہاں ان کے چار ہیں۔ جبکہ ان کے بقول افغانستان میں بھارت کے نو قونصل خانے ہیں جو کہ باعث تشویش ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ان کی بات چیت جاری ہے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے حزب مخالف کی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ بگٹی کی لاش پر سیاست کر رہے ہیں۔

انہوں نے بریفنگ کے موقع پر تیرہ صفحات پر مشتمل ایک چارج شیٹ بھی جاری کی جس میں بلوچستان میں پرتشدد واقعات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ چارج شیٹ اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی پہلے ہی مقامی میڈیا کو جاری کر چکے ہیں۔

حکومت کی چارج شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ بگٹی غیر قانونی طریقوں سے رقم حاصل کرتے تھے جس میں بدعنوانی، بلیک میلنگ، منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ وغیرہ شامل ہے۔

اس بارے میں جب ان سے پوچھا کہ چالیس برس تک حکومت میں رہنے والے اکبر بگٹی جو کہ بڑے اور اہم سرکاری عہدوں پر رہے، راتوں رات حکومت کو ان کی ساری برائیاں کیسے نظر آئیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے خلاف کارروائی ہوئی تھی لیکن بعد میں بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

طارق عظیم نے بریفنگ میں بھارت اور آئرلینڈ میں بغاوتوں کو کچلنے کی مثالیں دے کر یہ تاثر دیا کہ حکومت نے نواب بگٹی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ٹھیک ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بگٹی کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ وہ ایک دھماکے میں مرے ہیں۔

پاکستان پیٹرولیم لیمیٹڈ یعنی پی پی ایل سے بگٹی کو ملنے والی رائلٹی کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ معاہدے کے مطابق ان کے اہل خانہ کو ملتی رہے گی۔ لیکن انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ان کے قبیلے کے کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی زمینوں کی رائلٹی بھی بگٹی لیتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد