BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری

خیر بخش مری
’میں آزاد بلوچستان کی بات کرتا ہوں، پھر ہم جس کے ساتھ شریک ہونا چاہیں، میں ایران اور افغانستان کے اندر کیوں نہیں میں کسی عرب کے ساتھ کیوں نہیں‘
بلوچستان کے قوم پرست رہنما اور مری قبیلے کے سردار خیر بخش مری نے کہا ہے کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت ’صرف ٹارگٹ کِلنگ نہیں بلکہ قتل عام ہے‘۔ انہوں نے اپنے بیٹے بالاچ مری کے بارے میں کہا کہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

نواب خیر بخش مری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ جس طرح اسرائیل کو لبنان میں حسن نصراللہ کو مارنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایک ذہن ہے، اس طرح یہاں بھی ضرورت کے مطابق ’ٹارگٹ کِلنگ اور ماس کلنگ کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ شک ہے کہ بلوچوں میں کہیں آزادی مانگنے والے حاوی نہ ہوجائیں۔ ’میرے نقطۂ نگاہ سے مسلح جدوجہد دشمن کو تکلیف دیتی ہے، جلسے،جلوس اور تقریر کی بھی ضرورت ہے مگر یہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے‘۔

نواب خیر بخش مری نواب اکبر بگٹی کے طالب علمی کے دور کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی لاش ملنے سے قبل نماز جنازہ ادا کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بھی دکھاوے کے لیئے جاسکتا تھا، لیکن جان بوجھ کر نہیں گیا، یہاں سیاست چل رہی ہے بلوچ کو نیست کرنے کے لیئے یہ بھی سیاست چل رہی ہے کہ کہاں اس میں ملاوٹ کی جائے، میں سمجھاتا ہوں کہ یہ غلطی کی گئی ہے‘۔

بھٹو کے دور حکومت میں کالعدم قرار دی گئی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے سرکردہ رہنما کا کہنا تھا کہ ’نواب نے زندگی کے آخر میں جس طریقۂ کار کا انتخاب کیا کاش یہ پہلے کیا ہوتا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم آزاد بلوچ قوم کی حیثیت سے پہچانے جائیں۔ نواب خیر بخش مری نے کہا کہ میں پنجاب اور سامراج کا غلام پاکستانی کہلاؤں میں سمجھتا ہوں یہ کفر ہے، مجھ کوئی پاکستانی کہے میں اسے گالی سمجھتا ہوں۔

ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ خود مختار یا آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’میں آزاد بلوچستان کی بات کرتا ہوں، پھر ہم جس کے ساتھ شریک ہونا چاہیں، میں ایران اور افغانستان کے اندر کیوں نہیں میں کسی عرب کے ساتھ کیوں نہیں‘۔

نواب خیر بخش نے کہا کہ ’ہمارے انگریز سے معاہدے اور تھے، جب ہندوستان اور پاکستان جدا ہو رہے تھے تو ہماری آزادی کا اعلان ہوا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اکثریت ہے تو پھر بنگالی تو رضاکارانہ شامل ہوئے تھے ان کا تو پاکستان بنانے میں بھی بڑا دخل ہے، وہ کیوں علیحدہ ہوئے، کیا ان کے چھ نکات کفر تھے‘۔

پنجابیوں سے ناراضگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ سب پنجابی برے تو نہیں ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ پنجابی جب تک قوموں کے حق اور طبقوں کی عملی طور بات نہیں کرتے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس کی تائید کرنے والے ہیں ۔

بالاچ مری کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں ان کے والد نے بتایا کہ ’پاکستان حکومت سمجھتی ہے کہ مری گڑھ ہے اس قسم کے جراثیم کا۔ اس میں بالاچ ایک علامت ہے، حالانکہ بالاچ نہ عمر کے لحاظ سے نہ تجربے کے لحاظ سے گوریلا جنگ سے واقف ہے، اس کا مری قبیلے سے تعلق ہے اس لیئے وہ سمجھتے ہیں کہ بالاچ کو مار دیں، اس لیئے اس کو سب سے بڑا گناہ گار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خیر بخش کا بیٹا ہے‘۔

نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ سے رابطے کے بارے میں نواب خیر بخش نے کہا کہ ’میں دعاگو ہوں کہ وہ زندہ ہوں، میری خواہش ضرور ہوگی کہ میرا قبیلہ ہو یا بلوچ قوم ایسوں کی مدد کریں‘۔

نواب اکبر سے مزاکرات کے لیئے قائم کی گئی ٹیم اور اس کی سفارشات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں اس ٹیم کو کیموفلاج سمجھتا ہوں۔ ’اس کا نتیجہ اس لیئے خراب ہوا تھا کہ ٹیم کے لوگ مشرف کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ ہم نے اکبر خان سے باتیں کی ہیں، تو مشرف نے پوچھا کیا یہ سب کی طرف سے ہے یا اکبر خان کی طرف سے انہوں نے کہا کہ اکبر خان کی طرف سے تو مشرف نے کہا کہ اس کا کیا فائدہ باقی تو باہر رہیں گے‘۔

خیر بخش مری کے مطابق پورے بلوچستان کا فیصلہ کرنے کا اکبر خان اختیار نہیں رکھتے تھے۔

نواب خیر بخش نے کہا کہ ’میں بلوچ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہاں آپ کا انتہائی تاریخی ظالم قوم اور فوج سے واسطہ ہے۔ یہ پروفیشل ہیں آپ کی بہت ساروں کی سیاست امیچئر ہے، اس انتہائی ظالم طبقے سے ڈیل کرنے میں آپ کو انتہائی انقلابی اور جدید طریقے سے چھٹکارا ملے گا اس سے بچوں کی طرح ڈِیل نہ کریں‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نواب اکبر کی ہلاکت کے بعد یہ تحریک ختم ہوجائیگی تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل لڑنے والے عبدالکریم خان، نوروز خان اور صفر زہری کو اکبر خان نے تو نہیں بھیجا تھا،اکبر خان تو اس وقت اس کیمپ میں بھی نہیں تھا، اکبر خان اس کا محرک نہیں تھا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد