’بگٹی کی جائیداد تقسیم کر دی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مقتول قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے کزن میر احمدان بگٹی نے کہا ہے کہ نواب کی تمام ملکیت پر ان کے اہل خانہ کا کوئی حق نہیں ہے اور ان کی ملکیت راھیجہ بگٹیوں میں تقسیم کی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے یکم ستمبر کو ڈیرہ بگٹی میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر کی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ چھبیس اگست کی شام کو ضلع کوہلو کی بھنبور پہاڑی سلسلے کی ایک غار میں حکومت کے مطابق ایک دھماکے سے غار میں دب کر ہلاک ہونے والے نواب اکبر بگٹی کی جائیداد کروڑوں روپوں کی ہے۔ حکومت نے غار میں سے دس کروڑ روپے اور ہزاروں ڈالر کی نقد رقم برآمد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ احمدان بگٹی نے بتایا کہ اکبر خان کو سردار منتخب کرنے کے بعد جب شاہی جرگہ ہوتے تھے تو اس وقت راھیجہ قبیلے کے تمام افراد نے اپنی حیثیت کے مطابق رقم اور وسائل سردار کو فراہم کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جب سرداری نظام ختم ہوگیا ہے تو سردار کی تمام ملکیت راھیجہ بگٹیوں میں تقسیم ہونی چاہیے۔ ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے بگٹی قبیلے کی ایک اور ذیلی شاخ کلپر کے سربراہ جلال خان کلپر کی رائے احمدان خان سے مختلف تھی اور انہوں نے کہا کہ جرگہ فیصلہ کر چکا ہے کہ نواب بگٹی کی ملکیت تمام متاثرہ بگٹیوں میں تقسیم ہونی چاہیے نہ کہ راھیجہ شاخ کے بگٹیوں میں۔ اس بارے میں وزیر مملکت طارق عظیم کا کہنا ہے کہ نواب بگٹی کو پیٹرولیم کمپنیوں سے جو رائلٹی ملتی تھی اب بھی معاہدوں کے مطابق رقم ان کے اہل خانہ کو ملتی رہے گی۔ گزشتہ پیر کی شام جب وہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دے رہے تھے تو ان سے اس بارے میں جب سوالات ہوئے تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ بگٹی کے اہل خانہ رائلٹی کی رقم کے مستقبل میں حقدار ہوں گے۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||