اکبر: مزاحمت اور المناکی کا تسلسل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر خان بگٹی اپنے قبیلے کے وہ پہلے فرد نہیں تھے جسے حکومتِ وقت کے ہاتھوں المناک موت سے دوچار ہونا پڑا، تقریباً ڈیڑھ صدی قبل غلام حسین بگٹی بھی اسی طرح برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔ غلام حسین اور نواب بگٹی کے آخری ایام میں انتہائی مماثلت ہے۔ اپنے قبیلے کے ساتھ چھوڑ جانے پر غلام حسین نے مری قبیلے میں پناہ لی تھی اور وہیں سے مرتے دم تک مزاحمت جاری رکھی اور حکومتی ترجمانوں کی طرف سے ’کمانڈرز‘ کہے جانے والے نواب بگٹی کے انتہائی قریبی لوگ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، جس پر نواب کو بھی مری علاقے میں روپوشی اختیار کرنی پڑی۔ غلام حسین بگٹی، قبیلے کی مسوری شاخ کے وڈیرے تھے لیکن اس وقت کے برطانوی افسروں کی طرف سے لکھی گئی یاداشتوں میں ان کا ذکر ایک ’قانون شکن‘ فرد کے طور پر آتا ہے جس نے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ان پر لگائے گئے الزامات بھی کم و بیش وہی تھے جو پاکستان کی فوجی حکومت نے نواب بگٹی کے خلاف لگا رکھے تھے، مثلاً یہ کہ انہوں نے اپنی ملیشیا بنا رکھی ہے، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہیں اور اردگرد کے قبائل ان سے تنگ ہیں۔
اٹھارہ سو ستاون کی ناکام جنگ آزادی کے بعد، جسے نوآبادیاتی حکمران بغاوت اور غدر کا نام دیتے ہیں، برطانوی استعمار برصغیر کے کونے کونے میں اپنا اثر و نفوذ بڑھا رہا تھا۔ اس حوالے سے کوہ سلیمان کے مشرقی جانب واقع ضلع ڈیرہ غازی خان کے بلوچ قبائل مزاری، لغاری، کھوسہ، دریشک، بزدار، لنڈ اور گورچانی کے سردار حلف تابعداری اٹھا چکے تھے جبکہ مغربی جانب والے قبائل میں سے بگٹی سردار غلام مرتضیٰ خان بھی وفاداری کا دم بھر رہے تھے۔ تاہم مری سردار گزن خان سرکشی کی طرف مائل تھے۔ ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (بعد میں سر) رابرٹ سنڈیمن تھے جن کی وضع کردہ حمکت عملی کی بدولت، جسے ’فارورڈ پالیسی‘ کا نام دیا جاتا ہے، بلوچستان کے قبائل کو مطیع کیا گیا تھا۔ فارورڈ پالیسی کا مقصد لاقانونیت کے لیئے مشہور بلوچ اور پشتون قبائل کو کسی ضابطے میں لانا تھا تاکہ ایشیاء کی وسطی ریاستوں تک جانے والے راستے کو تجارت کے لیئے محفوظ بنایا جا سکے۔ اٹھارہ سو سڑسٹھ میں سنڈیمن کے ماتحت کام کرنے والے ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر رچرڈ آئزک بروس اپنی کتاب ’فارورڈ پالیسی اینڈ اٹِس ریزلٹس‘ میں لکھتے ہیں: ’وسط ایشیائی ریاستوں تک بھرپور تجارتی رسائی کے لیئے بولان اور کچھی سے گزرنے والے راستوں کو سفر کے لیئے محفوظ بنانا بہت ضروری ہے‘۔
لیکن غلام حسین اور ان کے وفادار اس میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھے جارہے تھے۔ غلام حسین کو ’ضابطے‘ میں لانے کے لیئے سردار غلام مرتضیٰ بگٹی (نواب اکبر بگٹی کے پردادا) اور مزاری سردار امام بخش خان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ مرتضیٰ بگٹی ایک دفعہ غلام حسین کو سنڈیمن کے دربار میں ساتھ لے آنے میں کامیاب بھی ہوئے لیکن غلام حسین نے تابعداری سے انکار کیا۔ جب وہ دربار سے جا رہے تھے تو بقول بروس ’سنڈیمن نے کہا کہ اس سرکشی کی قیمت تمہارا سر ہوگا‘۔ غلام حسین نے بگٹی، مری اور کھیتران قبائل کے افراد پر مشتمل بارہ سو سواروں کا ایک لشکر تیار کیا اور ستائیس جنوری سنہ اٹھارہ سو اڑسٹھ کے روز ہڑند میں واقع برطانوی فوجی چھاؤنی پر حملہ آور ہوا لیکن سردار مرتضیٰ بگٹی نے حکومت کو اس حملے کے بارے پیشگی اطلاع کر رکھی تھی۔
غلام حسین اپنے اڑھائی سو ساتھیوں سمیت لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ سنڈیمن اور ان کے ساتھیوں نے میدان کارزار کا دورہ کیا تو غلام حسین کی لاش سربریدہ ملی۔ بروس لکھتے ہیں ’جناب سنڈیمن جب ہڑند سے واپس جارہے تو ایک گورچانی نے یہ کہتے ہوئے ایک تھیلے میں سے غلام حسین کا سر ان کے سامنے رکھ دیا کہ اس کے بغیر وہ یقین نہ کرتے (کہ ان کی کہی ہوئی بات پوری ہوگئی ہے)‘۔ لیکن سنڈیمن نے اس عمل پر انتہائی ناگواری کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ غلام حسین کے سر کو فوری طور پر دفنا دیا جائے۔ غلام حسین کے خاندان والے بعد میں ان کا سر لے گئے اور اسے ان کے باقی جسم کے ساتھ دفن کیا گیا۔ | اسی بارے میں ’متحدہ اپوزیشن ہڑتال کرےگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||