نیویارک ٹائمز کا اداریہ: حکومت پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے اداریے میں نواب اکبر بگٹی کے پاکستانی سیکیورٹی ایجینسیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے پس منظر میں مشرف حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اتوار کو ’پاکستان میں غلط جنگ‘ کے عنوان سے اپنے شائع ہونے والے اداریے کی شروعات میں ’نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ’پاکستان کے پہاڑی غاروں میں خطرناک بین الاقوامی دہشتگرد چھپے ہوئے ہیں لیکن اناسی سالہ قبائلی رہنما، سیاستدان اور باغی اکبر بگٹی ان میں سے نہیں تھے‘- اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج جناب بُگٹی اور ان کے ساتھیوں کا شکار کرنے کے بجائے اور نہایت ہی اہم کام سر انجام دے سکتی تھی، مثلاً اس کی افغانستان کے ساتھ ملتی ہوئی دراندازی کیے لیئے بدنام سرحد کو بند کرنا جہاں سے طالبان جنگجو افغانستان میں گھس کر امریکی، نیٹو، اور افغان فوجیوں کو قتل کرتے ہیں- وہ (پاکستانی فوج) پاکستان میں مرکز رکھنے والے کشمیری دہشگردی کے کیمپ مستقل طور بند کرسکتی تھی جو ان تنظیموں پر ہونیوالی کارروائیوں سے بچ کر نئے ناموں سے سرگرم ہیں اور جن پر حکومتی مداخلت برائے نام ہے اور سب سے بڑی بات کہ وہ اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے کی سنجیدہ کوششیں کرسکتی تھی جس کے لیئے یقین کیا جارہا ہے کہ وہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں اپنا زیادہ وقت پاکستانی سرزمیں پر گزارتا رہا ہے۔ اخبار نے اداریے کے آخر میں لکھا ہے کہ جنرل مشرف جب امریکہ آتے ہیں تو خود کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے ایک لیڈر کے طور پر سراہا جانا بہت پسند کرتے ہیں جبکہ ان کے ملک کے اندر ان کی حکومت اکثر اوقات ایک گارڈن ویرائٹی فوجی ڈکٹیٹر شپ کی طرح عمل کرتی نظر آتی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: مظاہرے، توڑ پھوڑ، گرفتاریاں02 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان بلوچستان: احتجاجی ریلیاں، کشیدگی03 September, 2006 | پاکستان بی این اے اسمبلیوں سے مستعفی03 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||