بی این اے اسمبلیوں سے مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان بھر میں اتوار کو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور میت ورثا کے حوالے کیئے بغیر دفن کیئے جانے کے خلاف منعقداحتجاجی ریلیوں کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں منان چوک پر احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہاکہ ان اسمبلیوں میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جہاں منظور شدہ قرار دادوں پر عمل نہ کیا جائے اور جہاں شہید اکابرین کے لیئے دعا بھی نہ کی جا سکے۔ انہوں نے بلوچستان اسمبلی قومی اسمبلی سینیٹ اور ضلعی اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد جلسے میں بیٹھے لوگوں نے خوب نعرہ بازی کی اور کافی دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ بی این اے کے بلوچستان اسمبلی میں دو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک ایک رکن ہیں۔ جب کہ صوبے کے کچھ اضلاع میں ضلعی تحصیل اور یونین کونسل سطح پر ناظمین اور نائب ناظمین موجود ہیں۔ کوئٹہ کی ریلی میں اتحاد برائے بحالئی جمہوریت‘ چار جماعتی بلوچ اتحاد اور خود کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کا اتحاد پونم اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اب حقوق کی جنگ سے بات کافی آگے نکل چکی ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز جوگیزئی نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد جو جوش دیکھنے میں سامنے آیا ہے اس ٹھٹڈا نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جو بھی اپنے حق کے لیئے آواز اٹھاتا ہے اس کا سر کاٹ دیا جاتا ہے۔ نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر سردار ثناءاللہ زہری نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے یہ نہ تو اسلام میں روا ہے اور نا ہی قبائلی روایات میں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی میں آپریشن کے دوران کیمیکل ہتھیار استعمال کییے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں سے ایک کے ساتھ ہونا ہوگا۔ کوئٹہ میں ریلی منان چوک سے شروع ہوئی جو کندھاری بازار میزان چوک لیاقت بازار پرنس روڈ سے ہوتی ہوئی واپس منان چوک پہنچی۔ جلوس میں شامل مظاہرین نے نواب اکبر بگٹی کی تصویریں اور مختلف جماعتوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی ریلییاں منعقد ہوئی ہیں۔ پنجگور میں شدید کشیدگی تھی پنجگور کے تحصیل ناظم رحمدل بلوچ نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے گرفتاریوں کے خلاف تھانے کو گھیرے میں لیا تھا لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر فائرنگ ہوئی ہے اور کچھ دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نوشکی، دالبندین، ڈیرہ مراد جمالی، گوادر، تربت، قلات، سبی اور دیگر علاقوں میں پرامن ریلیاں نکالی گئیں۔ پسنی سے مقامی صحافی امام بخش نے بتایا ہے کہ پولیس نے یہاں صحافیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے اور بعض مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں مکران ڈویژن کے کئی شہروں میں منعقد ریلیوں میں پولیس کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||