بلوچستان: احتجاجی ریلیاں، کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان بھر میں آج نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور میت ورثا کے حوالے نہ کرنے کے خلاف احتجاجی ریلیاں ہو رہی ہیں۔ پنجگور میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے جہاں تحصیل ناظم رحمدل بلوچ نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے گرفتاریوں کے خلاف تھانے کو گھیرے میں لیا تھا لیکن کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر فائرنگ ہوئی ہے اور کچھ دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نوشکی میں پرامن ریلی نکالی گئی ہے تاہم فرنٹیئرکور اور پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات تھی۔ کوئٹہ میں ریلی تین بجے نکالی جائے گی جو منان چوک سے شروع ہو کر مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی واپس منان چوک پر پہنچے گی جہاں مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔ کوئٹہ میں ریلی کے حوالے سے سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے ہیں۔ پولیس اور فرنٹیئر کور کے دستے تعینات ہیں۔ بازاروں میں بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور ٹریفک معمول سے کم ہے۔ دریں اثناء یہاں ایسی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کی نماز جنازہ پڑھانے اور ان کا دیدار کرنے والے مولوی ملوک کو ہلاک کر دیا گیا ہے لیکن ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے اس کی تردید کی اور کہا کہ مولوی ملوک میرے پاس زندہ سلامت بیٹھے ہیں۔ |
اسی بارے میں نواب اکبر بُگٹی سپرد خاک 01 September, 2006 | پاکستان نواب اکبر بُگٹی کی تدفین01 September, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ اور سرحد میں ہڑتال01 September, 2006 | پاکستان تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا02 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||