BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 September, 2006, 21:12 GMT 02:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجیوں نے ظلم کیا،سزاملنی چاہیے‘

کوئٹہ میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے کے روز شہر میں ہونے والے بم دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
متحدہ حزب اختلاف نے بلوچستان میں فوجی کارروائیوں واقعات اور سانحات کی انکوائری کے لیے سپریم کورٹ کے ان ججوں پر مشتمل فل کورٹ کا مطالبہ کیا ہے جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔

کوئٹہ کے صادق شہید پارک میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس سٹیڈیم میں اٹھارہ سے بیس ہزار افراد کی گنجائش ہے اور یہ سٹیڈیم مکمل بھرا ہوا تھا۔

جلسہ میں موجود لوگوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کر رہے تھے۔

شہر میں جگہ جگہ پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات تھے لیکن پھر بھی میزان چوک کے قریب ایک دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دو فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار شامل ہیں۔

جلسہ میں پیش کی گئیں قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے انسانی حقوق کمیشن کے زیر نگرانی بین الاقوامی میڈیکل بورڈ کے قائم کیا جائے۔

اس جلسہ سے مسلم لیگ کے راجہ ظفرالحق اور اقبال ظفر جھگڑا، پیپلز پارٹی کے شاہ محمود قریشی، تحریک انصاف کے عمران خان، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی، جمہوری وطن پارٹی کے امان اللہ کنرانی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ہے اور سب نے فوجی حکمرانوں پر سخت تنقید کی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے قائدین اس ریلی میں شریک نہیں تھے۔ حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ انھیں اس جلسے میں شرکت سے روک دیا گیا تھا جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مجلس عمل نے راہ فرار اختیار کی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرح بلوچستان حکومت بھی بلوچستان میں فوجی آپریشن کی ذمہ دار ہے اور مجلس عمل بلوچستان میں حکومت کا حصہ ہے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے یہ تجویز دی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس حکومت کے خلاف سول نافرمانی تحریک شروع کی جائے جس کی تائید تمام باقی آنے والے مقررین نے کی ہے۔ لیکن آخر تک یہ تحریک شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحئی جب تقریر کرنے آئے تو لوگوں نے نعرے لگائے کہ اسمبلیوں سے استعفے دو جس پر ڈاکٹر عبدالحئی نے کہا کہ تمام جماعتیں قومی اسمبلی سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی سطح پر استعفے دے کر عوام کے پاس جائیں۔

حزب اختلاف کے تمام قائدین نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کو ظلم اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے خلاف پر زور تحریک وقت کی ضرورت ہے۔

اسفندیار ولی نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے بعد موجودہ حکمران سب کو ایک ایک کر کے ماردیں گے اس لیے اب وقت ہے کہ ہم جان لیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچ پشتون معاشرے میں بزرگوں کی قدر کی جاتی ہے لیکن فوجی حکمرانوں نے ایک اسی سالہ بوڑھے کو مار کر جرم کیا ہے جس کی اسے سزا ملنی چاہیے۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچوں کو غصہ فطری ہے کیونکہ پاکستان سے الحاق کرنے کے بعد بلوچوں پر ظلم کیا گیا جسے لوگوں نے برداشت کیا ہے لیکن اب برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
نواب اکبر بُگٹی کی تدفین
01 September, 2006 | پاکستان
خوف ختم نہیں ہوا
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد