BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 September, 2006, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوف ختم نہیں ہوا

بگٹی کے بعد بھی لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں
صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں مرحوم اکبر بگٹی کے مخالف کلپر اور مسوریوں کی فوج کی سرپرستی میں آبادکاری کے بعد حالات معمول پر آنے کا حکومتی دعویٰ اپنی جگہ لیکن اب بھی وہاں ایسا لگتا ہے کہ لوگ خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں حالات معمول پر آ گئے ہیں لیکن وہاں کی صورتِ حال اب بھی کافی حد تک غیر معمولی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحافیوں کے آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور لوگوں سے ملنے پر پابندی اب بھی عائد ہے۔

گزشتہ جمعہ کو نواب اکبر بگٹی کا جسدِ خاکی دفنانے کے بعد جب ڈیرہ بگٹی کے بازار میں دوکانوں اور ہوٹلوں میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنی چاہی تو خفیہ ایجنسیوں کے تین اہلکار میری ’حفاظت‘ کے لیے ایسے ساتھ ساتھ چلتے رہے کہ وہ میری سانسیں بھی با آسانی گن سکتے تھے۔

میں جن تین دکانوں اور دو ہوٹلوں پر گیا وہاں کئی لوگ تو موجود تھے لیکن نواب بگٹی کی ہلاکت اور ان کے کفن دفن کے متعلق عام لوگ بات کرنے سے گریزاں تھے۔ بیشتر لوگوں کے چہروں پر افسوس اور خوف کے آثار نمایاں تھے۔ البتہ کچھ ایسے لوگ بھی ملے جو برملا نواب بگٹی کو ظالم قرار دے کر کہنے لگے کہ جب تک وہ زندہ تھے تو ان کے دشمن تھے اور اب بلوچی روایات کے مطابق جب مرگئے ہیں تو انہیں ہم نے معاف کردیا۔

لوگوں کو اگر پہلے بگٹیوں کا خوف تھا تو اب خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا ڈر ہے

نواب بگٹی کے کفن دفن کی سرکاری تقریب دکھانے کے لیے دو درجن کے قریب لائے گئے صحافیوں پر نظر رکھنے کے لیے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی تعداد ان سے تین گنا تھی۔ جب صحافی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر کی رہائش گاہ پہنچے تو وہاں بھی خفیہ والے پہلے سے نشاندہی کردہ افراد سے بات کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔

انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے تجویز کردہ غلام قادر عرف ککی، ان کی بیگم موراں، سائیں بخش اور خاوند بخش سمیت اکثر شکایت کنندگاں کا کہنا تھا کہ کل تک جو افراد بگٹی فورس میں تھے اور ان کے عزیز و اقارب کو اغوا، قتل اور تشدد کرنے میں ملوث تھے اب ہتھیار ڈالنے کے بعد حکومت نے انہیں معافی دے دی ہے اور حکام ان کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ان افراد کا کہنا تھا کہ کہ انہیں انصاف نہ کل ملا نہ آج۔

بعض افراد نے کہا کہ سابقہ بگٹی فورس کے اہلکاروں کے خلاف حکومت اس لیے کچھ نہیں کہہ رہی کیونکہ ان کے مطابق کل کلاں اگر کلپر اور مسوری حکومت کو آنکھیں دکھانے لگے تو نواب فورس والوں کو ان کے خلاف استعمال کرسکیں۔

بگٹی کے ’مظالم‘ کا شکار ہونے والے کہتے ہیں کہ بلوچی روایات کے مطابق انہوں نے اکبر بگٹی کو معاف کر دیا ہے

ان میں سے ایک شخص ایسا بھی تھا جس نے الزام لگایا کہ سات ماہ سے ان کے بھائی کو نواب کے لوگوں نے اغوا کیا تھا اور تاحال انہیں ان کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔

ڈیرہ بگٹی پہنچنے کے بعد جب میں نے ’ڈی سی او، عبدالصمد لاسی سے اصرار کیا کہ وہ مجھے دو روز وہاں رہنے دیں اور لوگوں سے بات کرنے کی اجازت دیں تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ صوبائی حکومت سے اجازت لیں۔ وہاں موجود فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے منسلک کرنل اختر نے بھی یہی کہا کہ صوبائی حکومت سے اجازت لیں۔ جب وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا رازق بگٹی سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’ہماری طرف سےاجازت ہے لیکن یہاں آپ کا رہنا ٹھیک نہیں ہے۔‘

حکام کی جانب سے ڈیرہ بگٹی میں رکنے کی اجازت نہ ملنے سے ایسا لگا کہ شاید نواب بگٹی کی میت اور تدفین کے متعلق متضاد حکومتی دعووں کے تناظر میں کہیں کوئی راز نہ فاش ہوجائے۔

ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے قتل اور ان کے کئی حامیوں کے ’سرنڈر، اور کلپر اور مسوری قبائل کی آبادکاری سے حالات آٹھ ماہ پہلے جیسے تو نہیں ہیں اور ہر طرف چہل پہل بھی ہے، سکول کھل گئے ہیں اور بظاہر زندگی کی رمک بھی نظر آرہی ہے۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ پہلے بگٹی کا خوف تھا اور اب خفیہ والوں کا۔

اسی بارے میں
تابوت میں کیا کچھ دفن ہوگیا
02 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد