وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں ایک بار پھر امن بحالی کے لیئے 45 رکنی قبائلی جرگے نے شمالی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ فخر عالم اور دیگر مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جرگے میں فرنٹیئر ریجن کے قبائلی رہنماؤں کے علاوہ علماء اور اراکین پالیمان بھی شامل ہیں۔ قبائلی جرگہ چند مخصوص نکات پر حکومت اور مقامی طالبان ججنگجوؤں کےمابین ثالثی کا کردار ادا کریگا۔ حکومت کی جانب سے گرینڈ جرگہ طالبان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریگا کہ شمالی وزیرستان سے غیر ملکیوں کو بے دخل کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ کہ پاکستانی سرزمین کو افغانستانی اور اتحادی فوج پر حملے کے لیئے استعمال نہ کیا جائے۔ اب تک طالبان کی جانب سے جو شرائط سامنے آئی ہیں اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پاکستان کی آرمی شمالی وزیرستان کو خالی کر دیگی۔علاقے میں جن نئی چیک پوسٹوں کو قائم کیا گیا ہے انہیں ہٹا دیا جائے گااور پرانی دونوں جانب سے جو شرائط سامنے آئی ہیں وہ کوئی نئی نہیں ہیں بلکہ جنوبی وزیرستان میں کمانڈر نیک محمد اور بیت اللہ مسحود کے ساتھ سنہ 2004 میں اس قسم کے معاہدے کئیے گئے تھے لیکن معاہدوں کے کچھ عرصہ بعد ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نیک محمد کو ایک گایئڈڈ مئزائل کا نشانہ بنایا گیا۔ نیک محمد کی ہلاکت کے بعد مقامی جنگجو طالبان کے حاجی عمر کو کمانڈر بنایا گیا۔ اسکے بعد حکومت نے پھر حاجی عمر کے ساتھ معاہدہ کیا۔ حاجی عمر کے ساتھ امن معاہدے کی شرائط پر دونوں جانب سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اسکا فائدہ یہ ہوا کہ مقامی طالبان نے فوجی قافلوں اور چیک پوسٹوں پر حملوں کا سلسلہ روک دیا۔ ادھر حکومت نے بھی غیر ملکی اور مقامی مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی روک دی۔ اس درمیان دو سال کا عرصہ گزر گیا لیکن امن معاہدے کا نام اب بھی زندہ ہے جسکا ذکر حکومت کے علاوہ مقامی طالبان بھی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو سالوں میں معاہدے کی رو سے حکومت نے کیا پایا اور علاقے میں امن کی صورت حال کیا ہے۔ ان دو سالوں میں حکومت کی حمایت یافتہ قبائلی سردار حکومت پاکستان یا امریکہ کے لیئے جاسوسی کے الزام میں اب تک صرف جنوبی وزیرستان میں 164 لوگ نا معلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک کر دیئے گئے۔ اسکی وجہ سے پورے علاقے میں خوف کا ایسا ماحول قائم ہوگیا کہ کوئی بھی طالبان کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے واقعات پر حکومت کی خاموشی لوگوں کے لیئے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اکثر لوگ یا تو گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں یا دوسری علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔اس وقت حالت یہ ہو گئی ہے کہ جنوبی وزیرستان کے کئی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں نے دفاتر کھول لیئے ہیں۔ صرف وانا بازار میں اس وقت انکے 12 دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ان دفاتر سے طلالبان لوگوں کو جہاد کے لیئے افغانستان بھیجتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے اطلاعات کے مطابق جون 2006 میں افغانستان میں اتحادیوں کے خلاف حملوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی 56 لاشیں جنوبی وزیرستان پہنچائی گئی ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کا ان علاقوں میں علاج بھی چل رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس وقت جنوبی وزیرستان میں غیر ملکیوں کی تعداد پہلے کے بنسبت دو گنی ہو گئی ہے۔ مقامی لوگوں کو اس علاقے میں امن درکار ہے لیکن جہاں تک اس جرگے کی کامیابی کا سوال ہے وہ اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں فریق کس حد تک ان شرائط پر عمل درآمد کرتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے کے جرگے کانتیجہ یہاں کے عوام دیکھ چکے ہیں۔ | اسی بارے میں شمالی وزیرستان کیلیے گرینڈ جرگہ14 May, 2006 | پاکستان جرگہ رابطوں کی بحالی کا خیر مقدم28 June, 2006 | پاکستان مصالحتی جرگے کی تشکیل16 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||