مصالحتی جرگے کی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امن کی بحالی کے لیئے اتوار کے روز پینتالیس رکنی مصالحتی جرگہ تشکیل دیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ جرگہ بیس جولائی سے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرے گا۔ تاہم اس بیان میں جرگے میں شریک افراد کے نام ظاہر نہیں کیئے گئے ہیں اور صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان افراد کا تعلق تمام قبائلی علاقوں اور فرنٹیئر ریجن سے ہوگا۔ قبائلی علاقوں کے لیئے ڈائریکٹر جنرل میڈیا شاہ زمان خان کا کہنا تھا کہ بےچینی کے شکار شمالی وزیرستان میں گرینڈ جرگے کے ذریعے امن کے قیام کی کوشش کے لیئے اس جرگے کی تشکیل کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پشاور میں اپریل میں قبائلی عمائدین سے ایک ملاقات میں کیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس جرگے کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ علاقے میں گزشتہ تین ماہ سے مسلسل جاری پرتشدد کارروائیاں اور گورنر کی تبدیلی تھی۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے علاقے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔ یہ جرگہ مقامی شدت پسندوں کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کی مدت کے خاتمے سے چند روز قبل عملی سرگرمیاں شروع کرے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ جرگہ مسئلہ کے تمام فریقین سے مشاورت کرکے امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ خیال ہے کہ جرگے کی تشکیل میں تاخیر کی ایک اور وجہ بیک چینل ڈپلومیسی کا عمل بھی تھا۔ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ جرگے کا اعلان مناسب ہوم ورک کے بعد کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں جرگہ رابطوں کی بحالی کا خیر مقدم28 June, 2006 | پاکستان حکام کےقبائلیوں سے رابطے بحال27 June, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان سے اچھی خبر26 June, 2006 | پاکستان باڑہ: مذاکرات ناکام، کشیدگی جاری26 June, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان کیلیے گرینڈ جرگہ14 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||