BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 October, 2006, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: قبائل میں شدید اشتعال

بمباری کے خلاف خار میں لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے
خار میں احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران حکومت کو مطلوب مولانا فقیر محمد نے میجر شوکت سلطان کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے ’جہاد‘ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاجی جلسے میں مستعفی رکن اسمبلی ہارون رشید، سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید اور مجاہد کمانڈر مولانا فقیر محمد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

جلسے کے اختتام پر مشتعل مظاہرین نے خار کا رخ کرتے ہوئے راستے میں دکانوں اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کیا۔

کمانڈر فقیر محمد نے امن معاہدے کے جرگے کو ناکام قرار دیا۔ امن معاہدے کے بانی ملک عبدالعزیز نے کہا کہ ’ایک طرف حکومت مولانا فقیر محمد کی قیادت میں ہم سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھی اور حملے کی صبح اس معاہدے پر دستخط بھی ہونے تھے۔ دوسری جانب حکومت نے بمباری کرکے جرگہ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناکام کردیا جو کہ ایک ظلم ہے‘۔

خار میں لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگوں نے امریکہ پر بمباری کے شبہے کا اظہار کیا ہے۔

حملے میں زخمی ہونے والے تین افراد خار کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حملے میں مرنے والوں کی عمریں بارہ سے سولہ سال کے درمیان تھیں۔ مقامی حکام کی جانب سے زخمیوں کے گرد سکیورٹی تعینات کی گئی ہے تاکہ میڈیا کے نمائندے ان سے بات نہ کر سکیں۔

 ایک طرف حکومت مولانا فقیر محمد کی قیادت میں ہم سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھی اور حملے کی صبح اس معاہدے پر دستخط بھی ہونے تھے۔ دوسری جانب حکومت نے بمباری کرکے جرگہ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناکام کردیا جو کہ ایک ظلم ہے
عبدالعزیز

باجوڑ کےباہر ایک چوکی پر لیویز فورس تعینات تھی جسے منگل کی صبح مشتعل مظاہرین کے پتھراؤ کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ کی جانب سے سول کالونی خار میں طلب کرلیا گیا تھا۔ تاہم جلسے کے ارد گرد اور بازاروں میں لیویز فورس نظر نہیں آئی۔ مظاہرین کی جانب سے کافی توڑ پھوڑ کی گئی مگر تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

قاضی حسین احمد خار پہنچنے والے ہیں جس کے پیش نظر اب بازار میں فورس تعینات کردی گئی ہے۔

مرنے والوں میں سے ایک بچے کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کا بچہ عید کی چھٹیاں گزار نے کے بعد مدرسے گیا تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے۔ مرنے والے بچے کے باپ نے بتایا کہ یہ سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔

اسی بارے میں
’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد