BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 November, 2006, 01:20 GMT 06:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ بمباری: قافلے کو روک دیا گیا

قاضی حسین احمد
انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے قافلے اور صحافیوں کو خار جانے سے روک دیا

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور ان کے ہمراہ جانے والے جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں اور پشاور اسلام آباد کے صحافیوں کے قافلے کو پولیٹکل انتظامیہ نے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار جانے روک دیا ہے۔

قاضی حسین احمد کی قیادت میں یہ قافلہ پیر کے روز باجوڑ میں دینی مدرسے پر ہونے والوں بمباری میں ہلاک ہونے والے آفراد کے لواحقین سے تعزیت کرنے اور اس واقعہ پر احتجاج بلند کرنے کے لیئے منگل کی صبح نوشہرہ سے باجوڑ کے لیئے روانہ ہوا تھا۔

خار کے مقامی لوگوں کےمطابق تقریباً تمام لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں۔

اس قافلے میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے صدر سراج الحق، جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء حافظ حشمت خان، فضل ربانی اور قومی اسمبلی کے ممبران کے علاوہ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے ہوئے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔


یہ قافلہ جب تور غونڈی چیک پوسٹ پہنچا جہاں سے باجوڑ ایجنسی کا قبائلی علاقہ شروع ہوتا ہے تو وہاں پر پہلے سے جماعت اسلامی کے کارکن اور قبائلی عوام ہزاروں کے تعداد میں موجود تھے۔
جلوس کو روکنے کے بعد قاضی حسین احمد نے وہاں ہی سڑک کے کنارے بیٹھ کرگزشتہ روز کے واقعے میں ہلاک ہونے والے آفراد کےلیئے فاتحہ خوانی کی

پولیٹکل انتظامیہ نے تورغونڈی کے اس چیک پوسٹ پر پہلے سے بھاری تعداد میں خاصہ داراور سکواٹس فورسز کے جوانوں کو تعنیات کیا ہوا تھا جبکہ سڑک پر سامان سے لدے ہوئے بڑے بڑے ٹرکوں کو کھڑا کرکے اس کو عام ٹریفک کے لیئے مکمل طور پر بند کردیا تھا۔

’نعرہ تکبیر اللہ اکبر‘ ’سبیلینا سبیلینا الجہاد الجہاد‘ اور ’امریکہ کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ہزاروں مظاہرین جب چیک پوسٹ کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر موجود سیکیورٹی دستے راستے سے ہٹ گئے اور مظاہرین چیک پوسٹ پر لگی ہوئی زنجیر توڑ تے ہوئے زبردستی باجوڑ ایجنسی کے حدود میں داخل ہوگئے۔

تاہم قاضی حسین احمد کی قیادت میں یہ جلوس جب باجوڑ ایجنسی کے گردی اتمانخیل کے علاقے میں پہنچا جہاں سے صدر مقام خار آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا تو وہاں پر پہلے سے موجود سیکیورٹی دستوں نے جلوس کو روک دیا۔

مقامی انتظامیہ کا موقف تھا کہ انہیں اوپر سے حکم ملا ہے کہ جلوس کو مزید اگے جانے نہ دیا جائے۔ اس موقع پر خار کے اسِسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ مطاہر زیب بھاری نفری کے ہمراہ موجود تھےجنہوں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ سڑک پر گاڑیاں کھڑی کر کے اس کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیئے مکمل طورپر بلاک کیا ہوا تھا۔

 منگل کو دوسرے روز بھی مقامی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے باجوڑ داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی جاری رہی۔ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طورپر آئے ہوئے صحافیوں کے دو ٹیموں کو خار کے اے پی اے مطاہر زیب نے گردی اتمان خیل کے علاقے میں روکا اور انہیں صدرمقام جانے سے روک دیا

اس موقع پر جماعت اسلامی کے وزارء اور مقامی انتظامیہ کے مابین تند وتیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور کارکنوں نے اس موقع پر زبردست نعرہ بازی بھی کی۔
جلوس کو روکنے کے بعد قاضی حسین احمد نے وہاں پر ہی سڑک کے کنارے بیٹھ کر گزشتہ روز کے واقعے میں ہلاک ہونے والے آفراد کےلیئے فاتحہ خوانی پڑھائی اوراس موقع پر مظاہرین سے مختصر خطاب بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے لیکن پاکستانی حکمران اس کی ذمہ داری اپنے اوپر ڈال رہے ہیں اور اس کی وجہ بقول ان کے صدر پرویز مشرف میں اتنی جرات نہیں کہ امریکہ سے اس ظلم کی وجہ پوچھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر مشرف کو صدارات اور ارمی چیف کے عہدے سے فوری استعفی دینا چاہیے۔ ایم ایم اے کے رہنما نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک ان کی تحریک جاری رہی گی۔

پیر کو ہونے والے واقعے پر باجوڑ ایجنسی کے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے درجنوں قبائیلوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حملہ امریکہ نے کیا اور ذمہ داری پاکستانی حکمران لے رہیں ہیں۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ کام امریکیوں کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے بقول پاکستانی فوج کیوں اپنے بے گناہ اور معصوم بچوں پر بمباری کرے گا۔

 صحافیوں نے پولٹیکل اہلکار سے طویل بحث و تکرار بھی کی تاہم اہلکار کا موقف تھا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور ایسی صورتحال میں اخبارنویسوں کا وہاں جانا ٹھیک نہیں

منگل کو دوسرے روز بھی مقامی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے باجوڑ داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی جاری رہی۔ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طورپر آئے ہوئے صحافیوں کے دو ٹیموں کو خار کے اے پی اے مطاہر زیب نے گردی اتمان خیل کے علاقے میں روکا اور انہیں صدرمقام جانے سے روک دیا۔

اس موقع پر صحافیوں نے پولٹیکل اہلکار سے طویل بحث و تکرار بھی کی تاہم اہلکار کا موقف تھا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور ایسی صورتحال میں اخبارنویسوں کا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کے رپورٹر سے کیمرہ چھیننے کی بھی کوشش کی تاہم وہاں پر موجود مظاہرین کے باڈی لینگوئیج کو دیکھ کر انہیں دوسرے اہلکاروں نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔

عینی شاہدین کا بیان
مدرسے پرحملہ ایسے لگتا تھا جیسے زلزلہ ہو
’جہاد‘ کا اعلان
خار میں احتجاجی جلسہ اور مظاہرین کا پتھراؤ
’امریکی ملوث ہیں‘
باجوڑ پر فوج کی بمباری، مقامی لوگوں کے شبہات
قبائلی نظام
پاکستان کے قبائلی علاقوں کا سیاسی نظام
اسی بارے میں
لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد