باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب بھی پاکستان کی مغربی سرحدوں پر کوئی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو کچھ دیر کے لیے پورے ملک میں ہاہاکار مچ جاتی ہے۔ شور اٹھتا ہے کہ جو کیا امریکہ نے کیا، پاکستان کی فوجی قیادت پر لعنت ملامت ہوتی ہے کہ اس نے پوری قوم کو امریکہ کا غلام کر دیا اور پھر سارا معاملہ ایسے بھلا دیا جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ یہ آج کی بات نہیں۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔ ایمل کانسی کی گرفتاری سے لے کر جیکب آباد میں امریکہ کے فوجی اڈے قائم کرنے اور پاکستانی مدارس پر امریکی بمباری تک کب کسی نے چند گھنٹوں سے زیادہ کسی بھی ایسے واقعہ کو کوئی اہمیت دی ہے؟
مثلاً باجوڑ کی کارروائی کی پاکستانیت یا امریکیت پر جو بحث چھڑی ہے میں نے اس پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کی رائے پوچھی تو بولا سیدھی سی بات ہے کہ جب آپ نے کسی کو باپ مان لیا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کی ماں پر پہلا حق بھی اسی کا ہے۔ مجھے بات آگے بڑھانے کی جرات نہ ہوئی۔ مگر یہ باپ ماننے والی بات ذرا غور طلب ہے۔ مہذب زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف آپ نے اپنے بہت سے اہم امور پر فیصلوں کا اختیار کسی اور کو دے دیا بلکہ اپنے آپ کو دوسری جانب سے کیے گئے تمام فیصلوں کا پابند بھی کر لیا۔ صدر مشرف اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر اس امر کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے یہ بحث باجوڑ پر ہونے والے حملے کے بعد ایک دفعہ پھر بھڑک اٹھی ہے۔ اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک صدر مشرف کی سیاست کی دو منفرد شاخیں رہی ہیں۔ ایک وہ جس کی پرچھائیاں پاکستان تک محدود ہیں اور دوسری وہ جو سات سمندر پار امریکہ کے مشرقی ساحلوں کو چھوتی ہے۔ پہلے دن سے ہی ہر پاکستانی لیڈر کی طرح جنرل مشرف کی توجہ بھی امریکی شاخ کو ہرا بھرا رکھنے پر مرکوز رہی ہے۔ ملک کی اندرونی سیاست نے نا کبھی انہیں پریشان کیا اور نا ہی مستقبل قریب میں ایسا کوئی اندیشہ ہے۔ باجوڑ کے واقعے پر پاکستانی سیاست دانوں کے رد عمل کو ہی لیجیئے۔ الطاف حسین کو لندن میں بیٹھے دلی افسوس ہوا، پاکستان میں موجود پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے رہنماؤں کو محض افسوس ہوا جبکہ مقامی دانشور طبقے کو شاید کچھ بھی نہیں ہوا۔ مذہبی رہنما البتہ کافی سیخ پا ہوئے، لیکن کتنا؟ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل کے قومی اسمبلی کے رکن ہارون الرشید نے، جن کا گھرتباہ شدہ مدرسے سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر دور بتایا جاتا ہے، اس واقعے کے بعد استفعیٰ تو دیا لیکن قومی اسمبلی کے سپیکر کو نہیں بلکہ قاضی حسین احمد کو اور جب سرحد کی صوبائی اسمبلی کے سینیئر وزیر سراج الحق نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو وزیر اعلیٰ اکرم درانی نے فی الفور صحافیوں کو طلب کر کے وضاحت کی کہ ان کے استفعی کا با جوڑ کے واقع سے کوئی تعلق نہیں۔ اب ایسی مخالفت سے کوئی کیا گھبرائے خواہ وہ وردی میں ہو یا وردی کے بغیر۔ امریکہ کا معاملہ نسبتاً زیادہ ٹیڑھا ہے۔ گیارہ ستمبر 2001 کی شام کولن پاول کی جانب سے صدر مشرف کو کی جانے والی مشہور زمانہ فون کال کے بعد پاکستان اور امریکہ کے بیچ جو تعاون کا معاہدہ طے پایا اس کا ایک اہم جز دونوں ممالک کے بیچ دہشت گردی سے متعلق خفیہ معلومات کا تبادلہ تھا۔ پاکستانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے مطابق اگر کبھی خفیہ معلومات کی بنا پر کاروائی کرنے کی ضرورت پڑی تو پاکستان کی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا اختیار صرف اور صرف پاکستان کو ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے پہلے دو سال تو دونوں ملکوں کی زیادہ تر توجہ پاکستان کے بڑے شہروں پر رہی جہاں سے القاعدہ کے کئی کارکن گرفتار کیے گئے۔ اس دوران امریکہ نے بھی معاہدے کی پاسداری کی اور دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے بیچ باہمی اعتماد کی فضا پھلی پھولی لیکن جب دہشت شکن کارروائیوں نے اپنا رخ قبائلی علاقہ جات کی طرف کیا تو صورتحال کچھ ہی دیر میں بدلی بدلی نظر آنے لگی۔ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے کارکنوں کو پاکستانی طالبان نے پناہ دی اور یکایک پاکستان اور امریکہ کے مفادات کی راہیں جدا نظر آنے لگیں۔ گزشتہ تجربات کے پیش نظر پاکستان کسی بھی صورت طالبان کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ جب امریکہ تھک ہار کر افغانستان سے چلا جائے گا تو پہلے کی طرح خانہ جنگی کے شکار افغانستان کو طالبان ہی سنبھالیں گے۔ اس سوچ کے برعکس امریکہ کسی بھی صورت طالبان اور القاعدہ میں تفریق کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جلد ہی متضاد مفادات کی اس کھچڑی میں افغان صدر حامد کرزئی بھی کود پڑے اور اپنی تمام تر ناکامیاں پاکستان کے سر تھوپ دیں۔ امریکہ کی جانب سے یہ الزام لگا کہ اس کی فراہم کردہ معلومات پاکستانی حکام کے ذریعے طالبان اور القاعدہ تک پہنچ جاتی ہیں اور انہیں کسی کارروائی سے قبل ہی فرار ہونے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ اس پس منظر میں امریکہ نے باجوڑ پر اس سال کے شروع میں پہلا حملہ کیا۔ شدید اندرونی تنقید کے پیش نظر صدر مشرف نے معاملہ امریکی حکام کے سامنے رکھا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ طے پایا کہ کارروائی کا فیصلہ قابلیت کی بنیاد پر کیا جائےگا۔ یعنی اگر کہیں فوری کارروائی کی ضرورت پڑی اور پاکستان فوری کاروائی کا اہل نہ ہوا تو امریکہ کو حق ہو گا کہ وہ خود دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کرے۔ بلاشبہ پاکستانی قیادت تبادلہ معلومات کے معاہدے میں اتنی بڑی اور اہم تبدیلی کے حق میں نہیں ہو گی لیکن وہ کیا کرے؟ پاکستانی عوام یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہر ایسے واقعہ کے بعد تھوڑا سا واویلہ کر کے سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ بقول میرے ٹیکسی ڈرائیور کے جب کسی کو باپ مان لیں تو ـ ـ ـ | اسی بارے میں باجوڑ بمباری: حکومت مخالف مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف31 October, 2006 | پاکستان ’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘31 October, 2006 | پاکستان کراچی اور اسلام آباد میں بھی مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||