’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما مولانا فقیر محمد نے، جو غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب ہیں، کہا کہ باجوڑ ایجنسی کے مدرسے میں ’دہشت گردوں‘ کی موجودگی کی بات جھوٹ ہے۔ مولانا فقیر محمد نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ تو بالکل جھوٹ ہے سرا سر۔ جس مدرسے پر حملہ ہوا وہاں تو سب طلباء تھے۔ تربیت دینا تو فرض ہے لیکن یہ مرکز تو تربیت کا نہیں تھا‘۔
جن ان سے پوچھا گیا کہ آپ حکومت کو مطلوب ہیں اور آپ پر الزام ہے کہ آپ القاعدہ کے لوگوں کو یا طالبان کو وہاں پنا دے رہے ہیں، آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا دباؤ بہت زیادہ ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’الحمداللہ ہم مسلمان ہیں اور مجاہدین کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔ القاعدہ اور طالبان تو پکے مسلمان ہیں ان پر الزام لگانا اور ان کو ختم کرنا تو بہت بڑا جرم ہے اور جہاں تک پاکستان پر دباؤ کی بات ہے تو اتنے دباؤ کی کیا ضرورت ہے، ہم پر اللہ کی طرف سے دباؤ ہے۔ اپنے ملک کو خراب کرنا تو مشرف کی بے عقلی ہے، بے سمجھی۔ اگر ہم کفاروں کو مطلوب ہے تو کفار ہم کو مطلوب ہے‘۔ امریکہ کے خلاف جہاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’انشاللہ آخری دم تک لڑیں گے اور جدوجہد کریں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پاکستان کی مجبوریوں کو نظر میں نہیں رکھیں گے انہوں نے کہا ’ہم بھی مجبور ہے اللہ کی طرف سے۔یہ مشرف کی آواز ہے۔ سارے عوام کی آواز کچھ اور ہے۔ ساری عوام کفر کے خلاف لڑنا چاہتی ہے‘۔
ان سے پاکستانی فوج یا امریکہ کے خلاف لڑائی کی صالحیت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کی فوج کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ پاکستان مجاہدین کے خلاف لڑ رہا ہے‘۔ ’ہم تو دفاع کرتے ہیں۔ ہم نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ہم نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ حکومت نے ہمارے خلاف کارروائی کی۔ یہ ہمارا یا پاکستان کا نہیں سارے مسلمانوں کا اس ظلم کے ساتھ تعلق ہے‘۔ جن ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب بھی کسی امن معاہدے کی امید کی جا سکتی ہے؟ مولانا فقیر محمد نے کہا ’بالکل، ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان اور قبائلیوں کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکے مگر میں نے کہا ہے کہ ہم دفاع کی حالت میں اور ہم نے اپنا دفاع ضرور کرنا ہے یہ شرعی فریضہ ہے‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنا دفاع کس طرح کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم اپنا دفاع جانتے ہیں۔ جس وقت جس طرح مناسب ہوا۔ باجوڑ میں ہلاک ہونے والے شہداء ہیں اور انشاللہ ان کا خون رنگ لائے گا‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ باجوڑ میں حملے سے پہلے ملا عمر اور اسامہ بِن لادن کے حق میں جلسہ ہوا تھا تو کیا وہ اب بھی ملا عمر اور اسامہ بِن لادن کے ساتھ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بُش نے جس وقت افغانستان پر حملہ کیا ’اس نے اس وقت کہا تھا کہ یا ہمارے ساتھ ہو یا ملا عمر کے ساتھ۔ اس مسئلہ میں میں اکیلا نہیں ہوں۔ سارے قبائل سارے مسلمانوں کی آواز ہے کہ وہ ملا عمر اور شیخ اسامہ کو پسند کرتے ہیں اور بُش کے مؤقف کے مکمل خلاف ہیں۔ یہ میرا ذاتی موقف نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقوں کےجنگجو کون ہیں؟26 April, 2004 | پاکستان ہتھیار نہیں ڈالیں گے: نیک محمد13 April, 2004 | پاکستان عبداللہ محسود زندہ ہیں: ترجمان 17 March, 2005 | پاکستان ڈمہ ڈولا میں مُلا فقیر محمد سے ملاقات 16 January, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||