پاکستان: قبائلی علاقوں کا نظام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں سات ایجنسیاں ہیں جن میں سے چھ کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ صرف اورکزئی ایجنسی کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ہے۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان، خرم ایجنسی، خیبر ایجنسی، باجوڑ اور مہمند ایجنسی کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہے۔ ابتدائی طور پر حکومت کا یہی الزام تھااور اطلاعات تھیں کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاوہ باجوڑ میں غیرملکی افراد چھپے ہوئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں مذہبی رحجانات زیادہ ہے۔ اکتوبر دو ہزار دو کے انتخابات میں مذہبی عناصر کو برتری حاصل ہوئی تھی۔ قبائلی علاقوں میں بارہ قومی اسمبلی کے حلقوں میں سے سات میں ایم ایم اے کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جن میں سے چھ کا تعلق مولانا فضل الرحمن کی جماعت جبکہ ایک کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ جماعت اسلامی کے واحد رکن اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید جو باجوڑ سے ہی منتخب ہوئے تھے انہوں نے کل اس واقعے کے خلاف اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس علاقے میں حکومت کے حامی اراکین اسمبلی کی تعداد پانچ ہے۔ سینٹ میں قبائلی علاقوں کی آٹھ نشستیں ہیں جن میں سے آدھی نشستیں ایم ایم اے کے پاس ہیں۔ حکومت کی طرف سے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ قبائلی علاقوں میں نافذ نہیں ہے۔ اس لیئے سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں کام نہیں کر سکتیں لیکن اس وقت جو صورت حال ہے اس میں تمام سیاسی جماعتیں ان علاقوں میں کام کر رہی ہیں اور ان کے دفاتر ہیں۔
پچھلے انتخابات میں ہر جماعت نے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے اور اکثر جماعتوں کو انتخابی نشان بھی الاٹ کیے گئے تھے۔ البتہ یہ شکایت عام ہے کہ سکیولر اور قومی جماعتوں کے لیئے ان علاقوں میں کام کرنا مشکل ہے۔ مذہبی جماعتوں کو اس لحاظ سے بھی برتری حاصل ہے کیونکہ یہ جماعتیں مدرسوں اور مساجد کے ذریعے بھی سیاست کرتی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بڑے قبائل آباد ہیں۔ ان قبیلوں کی شاخیں ہیں۔ یہاں پر قبائلی ملکوں کا نظام رائج تھا۔ قبائلی ملکوں کوحکومتی سرپرستی حاصل تھی۔ ساری حکومتی مراعات ان ہی کو ملتی تھیں۔ 1997 کے انتخابات سے قبل یہاں پر ملکیوں کو ووٹ دینے اور انتخابات میں حصہ لینے کاحق تھا۔ عام لوگوں کو یہ حق 1997 کے انتخابات میں دیا گیا۔ فاٹا میں اکثر پاکستانی قوانین نافذ نہیں ہیں۔ پاکستان کی پولیس اور عدالتوں کا عمل دخل نہیں ہے۔ ان علاقوں کا اپنا ایک نظام، رواج اور روایات ہیں۔ ان علاقوں میں شہریت کا نظام بھی موجود ہے۔ تنازعات کی صورت میں جرگہ فریقین سے پوچھتا ہے کہ انہوں نے شرعی لحاظ سے یا پھر رواج کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ باجوڑ میں یوسف زئی اور کلانی قبیلہ ہے۔ یہاں کے لوگوں میں پیسہ آنے اور تعلیم عام ہونے اور لوگوں کے ان علاقوں سے نکل کر باہر جانے سے یہاں قبائلی نظام میں خاصی تبدیلی آرہی ہے۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر نئی سیاسی قوتیں ابھری ہیں اور حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ انگریزوں کے زمانے کا وضع کردہ پولیٹیکل ایجنٹ کا نظام موجود ہے لیکن پولیٹیکل ایجنٹ پہلے بااختیار تھے۔ تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے بعد اس علاقے میں فوج کو کنٹرول حاصل ہوا ہے اور پولیٹیکل ایجنٹ کا نظام کمزور پڑ گیا ہے۔ | اسی بارے میں یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد31 October, 2006 | پاکستان ’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان ’فاٹا کوصوبائی نمائندگی دی جائے‘ 08 December, 2004 | پاکستان فاٹا: ’مًلک‘ نظام مضبوط کیا جائے گا25 June, 2005 | پاکستان فاٹا کے لوگ ایڈز کے علاج سے محروم01 December, 2005 | پاکستان فاٹا: کونسلروں کی دھمکی21 February, 2006 | پاکستان فاٹا ارکان پارلیمان، مشرف ملاقات13 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||