BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 November, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑکے زخمی نامعلوم جگہ منتقل

باجوڑ
مدرسے پر ہوئے حملے میں ابو بکر شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک مدرسے پرگزشتہ ہفتے بمباری میں بچ جانےوالے تین زخمی نوجوانوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔


باجوڑ میں مدرسہ ضیاالعلوم تعلیم القرآن میں بمباری سےمعجزانہ طور پر بچ جانےوالےاٹھارہ سالہ سید ولی شاہ، بیس سالہ ابو بکر اور سولہ سالہ نور رحمان زخمی حالت میں علاج کےلیے پشاور لائے گئے تھے۔
زخمیوں کی باتیں
پشاورمیں سرکاری ہسپتال سے انہیں ایک نجی ہسپتال خیبر میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے علاج کےاخراجات ریڈ کراس تنظیم برداشت کر رہی تھی اور حکومت نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا تھا۔

پشاورآمد کے ابتدائی دنوں میں ان تینوں سے نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے کوئی رابطہ کیا۔ لیکن بعد میں ذرائع ابلاغ میں ان افراد کی حیثیت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کے بعد صوبائی وزیرصحت عنایت اللہ نے ان سے ملاقات کی اور انہیں صوبائی حکومت کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔

لیکن اطلاعات کے مطابق اس کے بعد سے ان زخمیوں سے صحافیوں کی ملاقات پر پابندی عاید کر دی گئی۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ پابندی مرکزی یا صوبائی حکومت کے احکامات کے تحت عاید کی گئی۔

باجوڑ کے زخمی
سید ولی بھی ان زخمیوں میں سے ہیں جن کو نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا گیا

خیبرمیڈیکل سینٹر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں مریض ہسپتال چھوڑ چکے ہیں البتہ انہیں نہیں معلوم وہ کہاں گئے ہیں۔

ریڈ کراس کے پاکستان میں ایک ترجمان رضا ہمدانی نے بی بی سی کو اسلام آباد سے بتایا کہ وہ صرف اتنی تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہ ان مریضوں کےعلاج کا خرچہ برداشت کر رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

پشاورآمد کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے تینوں زخمیوں نےحکومت کے اس دعوی کو مسترد کیا تھا جس میں بمباری کے وقت ان کے ساتھ اس وقت غیرملکیوں کے موجود ہونے یاانہیں عسکری تربیت دیئے جانے کا الزام لگایا تھا۔

ان لوگوں نےبتایا تھا کہ وہ نا تو کبھی افغانستان گئے ہیں، نہ کبھی عسکری کارروائی میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی ان کا تعلق کسی عسکریت پسند تنظیم سے ہے۔انہوں نے مدرسے میں کسی غیرملکی کے آنے جانے سے بھی انکار کیا تھا۔

ان بیانات کے بعد حکومت کے ان کے ساتھ رویے کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے تھے۔ ان کے بارے میں یہ پوچھا جانے لگا کہ اگر وہ معصوم ہیں تو حکومت ان کےعلاج معالجے میں مدد کیوں نہیں کرتی۔اگر وہ بھی مارے جانے والے دیگر لو گوں کی طرح شدت پسند تھے تو انہیں ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

پاکستان فوج کے ترجمان کےاس بیان کے ایک روز بعد کہ ان کے خلاف مناسب وقت پر کارروائی ہوگی، تینوں کو کسی نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابھی یہ واضع نہیں ہوا ہےکہ وہ حراست میں ہیں یا انہیں صرف ذرائع ابلاغ کی نظروں سے دور رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد