حکومت کو مطلوب مولوی فقیر کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چار سال سے جاری پاکستانی فوج کی ’دہشت گردی کے خلاف مہم‘ میں کئی مقامی طالبان کمانڈر سامنے آئے ہیں، جن میں باجوڑ کے مولوی فقیر محمد بھی نمایاں ہیں۔ مولوی فقیر پاکستانی حکومت کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں، ان پر طالبان اور القاعدہ کے اراکین کو مدد اور پناہ دینے کا الزام ہے۔ تقریباًً چالیس سالہ مولوی فقیر باجوڑ کے صدر مقام خار سے نو کلومیٹر شمال کی طرف ڈمہ ڈولہ کے چنگئی بالہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم باجوڑ کی تحصیل مامون کے مقامی مدرسے سے حاصل کی اور صوابی کے معروف دینی مدرسے ’پنچ پیر‘ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ سخت گیر مذہبی خیالات کے حامل مولوی فقیر محمد دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد افغانستان میں روسی افواج کے خلاف برسر پیکار افغان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگئے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسی دوران افغان جنگجوؤں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات استوار ہوگئے۔ ایک جنگجو ’طالبان کمانڈر‘ کے طور پر مولوی فقیر کی پہچان پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں تو حال ہی میں ہوئی ہے لیکن باجوڑ کے لوگ ان کی شخصیت اور ’کاروائیوں‘ کو پہلے سے بخوبی جانتے ہیں۔ اسی کی دہائی کے آخر میں جب مولانا صوفی محمد نے ’نفاذ شریعتِ محمدی‘ نامی تنظیم تشکیل دی تو مولوی فقیر نے اس میں شمولیت اختیار کی اور ایک سرگرم کارکن کے طورپر سامنے آئے۔ جب انیس سو چورانوے کے وسط میں مولانا صوفی کی تنظیم نے مالا کنڈ اور باجوڑ میں شریعت کے نفاذ کے لیئے حکومتی عمارتوں کا کنٹرول حاصل کیا تو مولوی فقیر محمد ان کی مجلس شوریٰ کے رکن کے طورپر زیادہ فعال نظر آئے۔ حکومتی رٹ چیلنج کرنے کے الزام میں مولوی فقیر اور ان کے ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تو وہ روپوش ہوگئے، مگر کچھ عرصہ کے بعد حکومت نے ایک معاہدے کے بعد انہیں معاف کردیا۔
’نائن الیون‘ کے بعد افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف پاکستان میں احتجاج کا طویل سلسلہ شروع ہوا تو مولوی فقیر محمد نے باجوڑ میں ہونے والے جلسے جلوسوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ مولوی فقیر پر حکومتی دباؤ میں ایک بار پھر اس وقت اضافہ ہوا جب افغانستان کے علاقے تورہ بورہ میں امریکی حملے کے بعد تین سو سے زائد طالبان اور القاعدہ کے جنگجو جان بچا کر باجوڑ آئے اور مبینہ طور پر چند دن کے لیے ان کے مہمان رہے۔ اس پر مولوی فقیر ایک دفعہ پھر منظر سے غائب ہوگئے۔ ان کا نام دوبارہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے سال دوہزار پانچ میں صوبہ سرحد کے ضلع مردان سے القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابو فراج اللیبی کو گرفتار کرنے کے بعد باجوڑ میں مولوی فقیر کےگھر پر چھاپہ مارا۔ مولوی فقیر تو حکومت کے ہاتھ نہ آئے لیکن ان کے ایک بھائی اور کزن کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس سال تیرہ جنوری کو امریکی طیاروں نے ڈمہ ڈولہ کے مقام پر اس شک پر بمباری کی کہ وہاں القاعدہ کے اہم رہنما ڈاکٹر ایمن الزواہری موجود ہیں۔
مولوی فقیر اپنے مسلح محافظوں کے ہمراہ زیادہ تروقت پیدل سفر کرتے ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق حال ہی میں انہوں نے گاڑی کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ ایک ہزار کے قریب مسلح جنگجو ہیں۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان امن معاہدے کے بعد مولوی فقیر نے میڈیا کے ذریعے باجوڑ میں اس طرز کے معاہدے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس سلسلے میں حکومت اور مولوی فقیر کے درمیان جرگہ کے ذریعے بات چیت حتمی نتیجہ پر پہنچنے ہی والی تھی کہ ڈمہ ڈولہ کے قریب چنگیئی میں مولوی فقیر کے دست راست مولانا لیاقت کے مدرسے پر جنگی طیاروں نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں اسی کے قریب طالب علم ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد مولوی فقیر کافی عرصہ بعد منظر عام پر آئے اور باجوڑ کے بازار میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سخت تقریر کی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں بلکہ جہاد سے دست بردار بھی نہیں ہونگے۔ | اسی بارے میں ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ، میرے گھر پر چھاپہ: ملافقیر12 July, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولہ کی آسیہ: ’میری آنکھ میں چھرے لگے‘01 June, 2006 | پاکستان ’حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا‘15 January, 2006 | پاکستان حملے کا سبب کھانے کی دعوت16 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||