’حکومتی دعوے جھوٹ ہیں‘: باجوڑ کے زخمیوں کی باتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کو مدرسے پر حملے میں تراسی میں سے معجزانہ طور پر بچ جانے والے تین زخمی طلبہ نے حکومت کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کے ساتھ اس وقت کوئی غیرملکی موجود تھے یا انہیں عسکری تربیت دی جا رہی تھی۔ پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ان تین نوجوانوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان کے جسموں پر زخموں کے نشانات سے محسوس ہوتا کہ حملے میں انتہائی طاقتور بم استعمال کیئے گئے تھے۔ ان زخمیوں کی ٹانگیں اور ہاتھ کٹنے کے علاوہ ان کے جسم بھی بری طرح جھلس گئے ہیں۔ ان تینوں کو گزشتہ روز علاج کے لیئے پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ لیکن ان تینوں کے علاج یا ان کی مالی امداد کے لیئے نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے کوئی رابطہ کیا ہے۔ ان میں اٹھارہ سالہ سید ولی شاہ اور بیس سالہ ابو بکر باجوڑ کے لوئی سام کے علاقے جبکہ سولہ سالہ نور رحمان قریبی گاؤں ڈمہ ڈولہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تینوں حافظِ قرآن ہیں اور اس کی تعلیم کے مختلف مراحل میں ہیں۔
انہیں بہتر علاج کے لیئے باجوڑ سے پشاور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ لایا گیا تھا۔ لیکن ان کے رشتہ داروں نے شکایت کی کہ سرکاری ہسپتال میں مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ان کے زخم خراب ہو رہے ہیں۔ ایک زخمی کے رشتہ دار نے الزام لگایا کہ حکومت انہیں تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتی ہے۔ ان زخمیوں کو اب ریڈ کراس نے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کر دیا ہے جہاں ان کے علاج کے اخراجات یہ بین الاقوامی تنظیم برداشت کر رہی ہے۔ ان لوگوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نہ تو کبھی افغانستان گئے ہیں، نہ کبھی عسکری کارروائی میں حصہ لیا ہے اور نہ ان کا تعلق کسی عسکریت پسند تنظیم سے ہے۔ انہوں نے مدرسے میں کسی غیرملکی کے آنے جانے سے بھی نکار کیا ہے۔
جب میں انہیں دیکھنے کے لیئے ہسپتال پہنچا تو ابو بکر منہ پر کمبل ڈالے سو رہے تھے۔ ان کے سرہانے بیٹھے ان کے ایک رشہ دار محمد شیعب نے بتایا کہ ابو بکر کافی تکلیف میں ہیں اور ساری رات جاگنے کے بعد ابھی سوئے ہیں۔ میں نے انہیں اٹھا کر دوبارہ تکلیف میں ڈالنے سے بہتر سمجھا کہ ان کے رشتہ داروں سے ہی بات کر لوں۔ ابو بکر کے نام اور حلیے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق ہو کیونکہ عام طور پر ایسی تنظیموں سے منسلک لوگ اکثر اپنے اصل نام کی جگہ اپنے لیئے کنیت چن لیتے ہیں۔ مگر ابو بکر کے رشتہ دار محمد شعیب نے اس تاثر کی نفی کی اور کہا کہ ابو بکر کا تعلق کسی ایسی تنظیم سے نہیں ہے۔ اب کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نام قبائلی علاقوں میں کافی مقبول ہیں۔ سیاہ داڑھی والے ابو بکر مدرسہ ضیاء العلوم تعلیم قرآن میں گزشتہ ایک برس سے زیر تعلیم تھے۔ معالجوں کو ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنی پڑی ہیں۔ ابو بکر کے جسم پر بےشمار زخم ہیں۔ وہ بمباری سے مدرسے میں لگنے والی آگ سے جھلسے ہوئے ہیں۔
محمد شیعب نے دعویٰ کیا کہ مدرسے میں بیس سال سے اوپر کی عمر کا کوئی طالب علم نہیں تھا اور وہاں غیرملکیوں کی موجودگی یا عسکری تربیت کا حکومتی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ تاہم حکومت اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ مدرسے میں تیس برس یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ موجود تھے جن میں غیر ملکی بھی تھے اور یہاں عسکری تربیت دی جاتی تھی۔ ابو بکر نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا کہ پیر کی صبح ان کے اکثر ساتھی یا تو تہجد کی نمازیں پڑھ رہے تھے یا پھر فجر کی نماز کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور جب انہیں ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھے۔ ساتھ میں ایک دوسرے کمرے میں بری طرح سے جھلسے ہوئے ایک اور زخمی سولہ سالہ نور رحمان زیر علاج ہیں۔ ان کے منہ پر اتنے شدید زخم ہیں کہ وہ جاگے ہونے کے باوجود بول نہیں سکتے۔ وہ اس مدرسے میں چار سال سے زیر تعلیم تھے اور حفظِ قرآن کے پہلے درجے پر تھے۔ ان کے پاس ان کے ماموں زاد بھائی محمد اللہ بیٹھا تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بمباری کے بعد سے وہ بولے نہیں ہیں۔ ان کو کمر اور پاؤں پر زخم آئے ہیں مگر کوئی معذوری نہیں ہوئی۔
تیسرے کمرے میں سید ولی جان ایک نیلی چارد کے نیچے لیٹے تھے۔ بمباری میں ان کی ایک ٹانگ، ایک ہاتھ کی چار جبکہ دوسرے کی دو انگلیاں کاٹنی پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جسم بری طرح جھلسا ہوا ہے۔ وہ اس حالت میں ہونے کے باوجود بڑے باہمت دکھائی دیئے۔ انہوں نے پشتو میں بات کی اور بتایا کہ پونے پانچ بجے وہ وضو اور نماز میں مصروف تھے کہ دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بمباری کے وقت فضا میں طیارے دیکھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ پاکستانی تھے یا کسی اور ملک کے۔ اس نے کہا کہ اس وقت مدرسے میں موجود تمام افراد مقامی یا سوات کے تھے۔ غیرملکیوں یا القاعدہ کے لوگوں کے الزام کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ جو بھی یہ بات کرتا ہے زیادتی کرتا ہے۔ ’وہاں چھوٹے بچے تھے سات سے لے کر بیس برس عمر کے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حفظ اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرکے بہت ظلم کیا ہے۔ انہوں نے ’طلباء‘ پر جنگی تربیت کے حصول کے الزام کو بھی مسترد کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا مدرسے کے مہتمم مولوی لیاقت کے پاس کوئی غیرملکی یا مشکوک لوگ آتے تھے تو انہوں نے کہا ’نہیں، انہوں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے۔‘
سید ولی کے ماموں اعظم خان نے بتایا کہ سید ولی چند روز قبل رمضان میں قرآن کرنے کے بعد مدرسے لوٹا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسے اس مدرسے میں پڑھنے کا مشورہ انہوں نے ہی دیا تھا کیونکہ یہ ان کے گھر کے قریب تھا۔ اعظم خان کا کہنا تھا کہ مدرسے میں غیرملکی تو کیا کوئی افغان بھی نہیں تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت مستعفی ہو جائے۔ ’حکومت نے باجوڑ کے ساتھ یہ دوسرا ظلم کیا ہے۔‘ سید ولی نے سرکاری موقف کو غلط قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم انہیں حکومت سے کیا مطالبہ کرنا چاہیے۔ جب محمد شیعب سے دریافت کیا گیا کہ وہ حکومت سے کیا چاہتے تو ان کا صرف اتنا کہنا تھا کہ ’ہمیں حکومت معاف کردے۔ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے۔ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔‘ |
اسی بارے میں باجوڑ:مدرسے پر فوجی کارروائی30 October, 2006 | پاکستان کراچی،اسلام آباد میں بھی مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||