BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 November, 2006, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسہ کی تعمیر3 ماہ میں: جماعت

جماعت اسلامی ریلی
جماعت اسلامی نے دہشت گردی کی مخالفت لیکن جہاد کی حمایت کی ہے۔
جماعت اسلامی صوبہ سرحد نے باجوڑ ایجنسی میں بمباری کے خلاف کل سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں تباہ ہونے والا دینی مدرسہ بہت جلد دوبارہ تعمیر کرایا جائے گا۔

جماعت اسلامی نےسانحے میں ہلاک ہونے والوں کی کفالت کے لیے ایک امدادی فنڈ قائم کیا ہے۔

جمعرات کے روز پشاور میں جماعت اسلامی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے جماعت کے صوبائی امیر سراج الحق نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں تین دن قبل امریکی بمباری میں ہونے والی ہلاکتوں پر احتجاج کرنے کے لیے کل سے ملک بھر میں احتجاج اور جلسے جلوسوں کا نیا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرامن احتجاج ہوگا جو حکومت کی خاتمے تک جاری رہے گی۔



انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی بمباری میں تباہ ہونے والا دینی مدرسہ تین مہینے کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کرایا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کیا جائے گی۔

باجوڑ کے خلاف پشاور اور قبائلی علاقوں میں چوتھے روز بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا
سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں ہلاک ہونے والےاسی طلباء اور اساتذہ کے ورثا کےلیے دس لاکھ روپے سے ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد متاثرین کے لواحقین کی مالی کفالت کرنا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی اپیل کی کہ باجوڑ کے واقعے کا از خود نوٹس لے اور اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے میڈیا میں فوجی ذرائع سے آنے والے ان رپورٹس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مدرسے کے القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الزواہری اور جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے روابط تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ جماعت اسلامی ایک اوپن تنظیم ہے ہم خفیہ سرگرمیوں پر یقین نہیں رکھتے۔البتہ ہم جہاد کی حمایت کرتے ہیں۔ جہاد کشمیر ہو، فلسطین، عراق یا افغانستان ہو جہاں بھی مسلمان ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرتا ہے ہم اس کے حامی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم جہاد کی حمایت کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے لیکن ہم دہشت گردی اور تخریب کاری کے بھی خلاف ہیں۔

ادھر سانحہ باجوڑ کے خلاف پشاور اور قبائلی علاقوں میں چوتھے روز بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

جمعرات کے روز پشاور میں وکلاء برادری نے باجوڑ میں ہلاکتوں کے خلاف ایک احتجاجی مارچ کیا اور ملک کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے باجوڑ کے واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے پر ان کے خلاف نعرہ بازی کی۔ وکلاء نے سنیچر کے روز پنجاب کی طرح صوبہ سرحد میں بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

مارچ میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء تنظیموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر وکلاء برادری نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے باجوڑ کے واقعے پر خاموشی اختیار کرنےکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خلاف نعرے بھی بلند کئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی کہ سانحہ باجوڑ کا ازخود نوٹس لیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے۔

طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
اسی بارے میں
’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘
01 November, 2006 | پاکستان
’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد