’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام نے دعوی کیا ہے کہ خار میں جس مدرسے کو تباہ کیا گیا ہے اس مدرسے کے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری، افغان رہنما گلبدین حکمت یار اور جماعت اسلامی سے گہرے رابطے تھے۔ باجوڑ میں مدرسے پر بمباری کے تیسرے روز فوجی اور حکومتی حکام کی جانب سے میڈیا کے نمائندوں کو ایک پریس بریفنگ دی گئی۔ اس پریس بریفنگ میں حکومت اور فوجی حکام نے دعویٰ کیا کہ’ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ جماعت اسلامی کا اس میں بڑا ہاتھ ہے‘۔ پریس بریفنگ میں موجود ڈان کے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات پر زور دیا گیا کہ باجوڑ ایجنسی اور گلبدین حکمت یار کے درمیان بہت قریبی رابطے ہیں اور مدرسے میں القاعدہ کے رکن آتے جاتے رہے ہیں جس میں ایمن الظواہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے لوگ بھی آتے جاتے تھے۔ حکام نے سلائیڈز کی مدد سے صحافیوں کو کیمرہ کی مدد سے لی گئی تصاویر دکھائیں۔ تین چار تصاویر ہی تھیں جو تواتر کے ساتھ دکھائی گئیں۔ ان تصاویر میں دکھایاگیا ہے کہ ایک مدرسہ ہے جس میں بظاہر لگتا ہے کہ پچاس ساٹھ لوگ ہیں ان افراد کی کل تعداد کے بارے میں بتانا بہت مشکل ہے کیونکہ تصاویر بہت دھندلی تھیں۔ تصاویر میں ان افراد کو ٹریننگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے تاہم دورانِ ٹریننگ ان کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا۔ حکام نے بتایا کہ ان افراد کی تربیت کا سلسلہ صبح کے چار بجے شروع ہوتا تھا۔ احتشام الحق کا کہنا تھا کہ حکام سے اس موقع پر بار بار یہی سوال کیا گیا کہ ان کے خلاف حکومت کے پاس کیا ثبوت تھے جن کے مطابق یہ لوگ دہشت گرد ہیں یا یہ ٹریننگ کیمپ ہے اور یہ افراد باہر کسی کارروائی کے لیئے جا رہے تھے مگر حکام کی جانب سے ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔ صحافی نے بتایا کہ اس سوال پر کہ کیا جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو عدالت کے کٹہرے میں لے کر جایا جائے گا تو ایک سول افسر نے کہا کہ اس بارے میں ٹھوس ثبوت کی ضرورت ہے جو اگر اکھٹے ہو جائیں گے تو حکومت اس بارے میں بھی سوچ سکتی ہے کہ اگر جماعت اسلامی اس میں ملوث ہےتو اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ اس سوال پر کہ ہلاک ہونے والے افراد کو زمینی کارروائی کرکے پہلے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا تو حکام کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے زمینی حقائق اس طرح کے ہیں کہ وہاں فوج کو لے کر جانا بہت ہی مشکل ہے اور اگر فوجی کارروائی کی بھی جاتی تو اس کی کامیابی کے امکانات مشکوک تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ’ ہم اس مدرسے کو جولائی سے مانیٹر کر رہے تھے اور ہمیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ افراد کچھ دنوں کے اندر کسی کارروائی کے لیئے باہر نکلیں گے۔ اسی وجہ سے فوری طور پر ہم نے یہ کام کیا۔ ہم نے جو کارروائی بھی کی اس کے بارے میں ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں‘۔ تاہم حکام نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ بمباری کے جواب میں خطرناک جوابی کارروائی ہو سکتی ہے۔ القاعدہ کے لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں اس لیئے پاکستان میں سکیورٹی اور سخت کی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی،اسلام آباد میں بھی مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان بمباری: حکومت مخالف مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ پر سال میں دوسری بمباری31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: تیسرے روز بھی مظاہرے جاری01 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: قافلے کو روک دیا گیا01 November, 2006 | پاکستان ’حکومت کے دعوے جھوٹ ہیں‘ : باجوڑ کے زخمیوں کی باتیں01 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||