BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 November, 2006, 08:37 GMT 13:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ بمباری: تیسرے روز بھی مظاہرے جاری

احتجاجی مظاہروں میں فوجی بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کی گئی

باجوڑ میں فوجی بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت کے خلاف پشاور اور باجوڑ میں بدھ کے روز بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ باجوڑ کے گردونواح میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

بدھ کی صبح عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف، پاسبان اور اسلامی جمعیت طلباء نے مظاہرے کیے جن میں فوج کی بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کی گئی۔

باجوڑ میں خار کے علاقے میں بھی ایک اجتماع ہوا جبکہ انار چنگئی میں تیسرے روز بھی مقامی لوگوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔

بدھ کی دوپہر باجوڑ کی مخلتف سیاسی جماعتیں ایک اہم اجلاس کر رہی ہیں جس میں فوجی بمباری سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

دریں اثناء سرحد اسمبلی نے ایک اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے جماعت اسلامی کے سربراہ اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کو خار جانے سے روکنے کی مذمت کی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور ان کے ہمراہ جانے والے جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں اور پشاور اسلام آباد کے صحافیوں کے قافلے کو پولیٹکل انتظامیہ نے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار جانے روک دیا گیا تھا۔

اس قافلے میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے صدر سراج الحق، جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء حافظ حشمت خان، فضل ربانی اور قومی اسمبلی کے ممبران کے علاوہ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے ہوئے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

یہ قافلہ جب تور غونڈی چیک پوسٹ پہنچا جہاں سے باجوڑ ایجنسی کا قبائلی علاقہ شروع ہوتا ہے تو وہاں پر پہلے سے جماعت اسلامی کے کارکن اور قبائلی عوام ہزاروں کے تعداد میں موجود تھے۔

قاضی حسین احمد نے سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہلاک ہونے والے افراد کےلیئے فاتحہ خوانی کی

پولیٹکل انتظامیہ نے تورغونڈی کے اس چیک پوسٹ پر پہلے سے بھاری تعداد میں خاصہ دار اور سکواٹس فورسز کے جوانوں کو تعنیات کیا ہوا تھا جبکہ سڑک پر سامان سے لدے ہوئے بڑے بڑے ٹرکوں کو کھڑا کرکے اس کو عام ٹریفک کے لیئے مکمل طور پر بند کردیا تھا۔

’نعرہ تکبیر اللہ اکبر‘، ’سبیلینا سبیلینا الجہاد الجہاد‘ اور ’امریکہ کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ہزاروں مظاہرین جب چیک پوسٹ کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر موجود سکیورٹی دستے راستے سے ہٹ گئے اور مظاہرین چیک پوسٹ پر لگی ہوئی زنجیر توڑ تے ہوئے زبردستی باجوڑ ایجنسی کے حدود میں داخل ہوگئے۔

تاہم قاضی حسین احمد کی قیادت میں یہ جلوس جب باجوڑ ایجنسی کے گرد اتمانخیل کے علاقے میں پہنچا جہاں سے صدر مقام خار آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا تو وہاں پر پہلے سے موجود سکیورٹی دستوں نے جلوس کو روک دیا۔

مقامی انتظامیہ کا موقف تھا کہ انہیں اوپر سے حکم ملا ہے کہ جلوس کو مزید آگے جانے نہ دیا جائے۔ اس موقع پر خار کے اسِسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ مطاہر زیب بھاری نفری کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا جبکہ سڑک پر گاڑیاں کھڑی کر کے اس کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیئے مکمل طورپر بند کیا ہوا تھا۔

 منگل کو دوسرے روز بھی مقامی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے باجوڑ داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی جاری رہی۔ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طورپر آئے ہوئے صحافیوں کے دو ٹیموں کو خار کے اے پی اے مطاہر زیب نے گردی اتمان خیل کے علاقے میں روکا اور انہیں صدرمقام جانے سے روک دیا

اس موقع پر جماعت اسلامی کے وزراء اور مقامی انتظامیہ کے مابین تند وتیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور کارکنوں نے اس موقع پر زبردست نعرہ بازی بھی کی۔

جلوس کو روکنے کے بعد قاضی حسین احمد نے وہاں پر ہی سڑک کے کنارے بیٹھ کر گزشتہ روز کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کےلیئے فاتحہ خوانی پڑھائی اوراس موقع پر مظاہرین سے مختصر خطاب بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے لیکن پاکستانی حکمران اس کی ذمہ داری اپنے اوپر ڈال رہے ہیں اور اس کی وجہ بقول ان کے صدر پرویز مشرف میں اتنی جرات نہیں کہ امریکہ سے اس ظلم کی وجہ پوچھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر مشرف کو صدارات اور آرمی چیف کے عہدے سے فوری استعفی دینا چاہیے۔ ایم ایم اے کے رہنما نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک ان کی تحریک جاری رہی گی۔

پیر کو ہونے والے واقعے پر باجوڑ ایجنسی کے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ کام امریکیوں کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے درجنوں قبائلیوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حملہ امریکہ نے کیا اور ذمہ داری پاکستانی حکمران لے رہے ہیں۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ کام امریکیوں کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے بقول پاکستانی فوج کیوں اپنے بے گناہ اور معصوم بچوں پر بمباری کرے گا۔

منگل کو دوسرے روز بھی مقامی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے باجوڑ داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی جاری رہی۔ پشاور اور اسلام آباد سے خصوصی طورپر آئے ہوئے صحافیوں کے دو ٹیموں کو خار کے اے پی اے مطاہر زیب نے گردی اتمان خیل کے علاقے میں روکا اور انہیں صدرمقام جانے سے روک دیا۔

اس موقع پر صحافیوں نے پولٹیکل اہلکار سے طویل بحث و تکرار بھی کی تاہم اہلکار کا موقف تھا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور ایسی صورتحال میں اخبارنویسوں کا وہاں جانا ٹھیک نہیں۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کے رپورٹر سے کیمرہ چھیننے کی بھی کوشش کی تاہم وہاں پر موجود مظاہرین کے باڈی لینگوئیج کو دیکھ کر انہیں دوسرے اہلکاروں نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔

طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
باجوڑ پر دوسرا حملہ
ایک سال میں باجوڑ پر دوسرا فضائی حملہ
قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
عینی شاہدین کا بیان
مدرسے پرحملہ ایسے لگتا تھا جیسے زلزلہ ہو
’جہاد‘ کا اعلان
خار میں احتجاجی جلسہ اور مظاہرین کا پتھراؤ
’امریکی ملوث ہیں‘
باجوڑ پر فوج کی بمباری، مقامی لوگوں کے شبہات
قبائلی نظام
پاکستان کے قبائلی علاقوں کا سیاسی نظام
اسی بارے میں
لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد