باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں دینی مدرسے پر ہونے والی بمباری کے تین روز گزر جانے کے بعد ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی کی ہوئی لاش ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے مخبری کے شبہ میں مارا گیا ہے۔ باجوڑ کے علاقے خار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ لاش کھیتوں سے ملی ہے اور یہ دو دن سے ادھر پڑی تھی لیکن کوئی اسے اٹھا نہیں رہا تھا۔ ہلاک ہونے والے شخص کا نام جان محمد بتایا گیا ہے اور وہ مدرسے سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس کی عمر چالیس اور پینتالیس سال کے درمیان تھی اور اس کے خاندان کا تعلق اس علاقے سے نہیں بلکہ بنیر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جان محمد ’مخبری کرتا تھا اور سیٹلائٹ فون لے کر پھرتا تھا۔‘ مقتول کی لاش ’گولیوں سے چھلنی‘ کی ہوئی تھی۔ تاہم علاقے کے حکومت مخالف رہنما مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ جان محمد تو ’بمباری میں ہلاک ہوا تھا۔‘ حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ اس مدرسے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس میں مذہبی انتہاں پسندوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی تھی اور اس کے دیگر انتہا پسند حلقوں سے روابط تھے۔ مقامی لوگ اس کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کا دہشت گردوں یا غیر ملکیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں ’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘01 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: تیسرے روز بھی مظاہرے جاری01 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||