باجوڑ کی بے جوڑ کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ ایجنسی میں بیاسی افراد کی ہلاکت کے تعلق سے گذشتہ روز اسلام آباد میں بعض چنیدہ صحافیوں کو اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں نے جو بریفنگ دی۔ اسکی تفصیلات کے مطابق جس مدرسے پر میزائل برسائے گئے اس کا القاعدہ کے نمبر دو رہنما ایمن الزواہری اور انکے دو نائبین ابو عبیدہ المصری اور ابو فرح البی متعدد بار دورہ کر چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے چنیدہ صحافیوں کو انفراریڈ کیمروں سے لی گئی تصاویر اور وڈیوز بھی دکھائیں۔جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مدرسے میں علی الصبح بیس سے تیس برس عمر کے نوجوان ورزش میں مصروف ہیں۔ مگر کوئی مسلح شخص نہیں ہے۔ حکام کے بقول ان تصاویر میں نوجوانوں کو ہتھیار چلانے کی نہیں بلکہ خودکش بمبار بننے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ کئی ہفتے تک ان سرگرمیوں کے مشاہدے کے بعد کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ کیونکہ مدرسے کے منتظمین مولوی لیاقت اور مولانا فقیر محمد نے بار بار تنبیہہ کے باوجود یہ سرگرمیاں معطل نہیں کیں۔اور دراصل یہ لوگ حکومت سے ایک مجوزہ معاہدہ امن کی آڑ لے کر یہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ کئے ہوئے تھے۔
حکام نے یہ تاثر رد کردیا کہ بیاسی ہلاک شدگان میں بارہ برس تک کی عمر کے بھی کئی طلبا شامل ہیں۔ حکام کے بقول حملے کے بعد یہاں سے لاشیں سوات اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں لے جایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں پڑھائی نہیں بلکہ جہادی سرگرمیوں کی تربیت کے لئے محتلف علاقوں سے نوجوانوں کو جمع کیا جاتا تھا۔اور مدرسے کے خلاف زمینی کارروائی اس لئے نہیں کی گئی کیونکہ یہ لوگ چوکنا ہوجاتے اور آپریشن میں سے سرپرائز کا عنصر جاتا رہتا۔ حکام کے بقول اگرچہ حکومت باجوڑ میں بھی وزیرستان کی طرز کا امن معاہدہ کرنا چاہتی ہے لیکن اس سے پہلے یہ کارروائی ضروری تھی تاکہ یہاں کے لوگ امن معاہدے سے کوئی غلط تاثر نہ لیں اور شدت پسندوں کی حمایت سے باز رہیں۔ مگر اس مخصوص بریفنگ میں جو تصویر پیش کی گئی ہے اس سے کہانی واضح ہونے کے بجائے کچھ جھول مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے فن پر تحقیق میں کئی ماہرین نے اپنی عمریں کپھا دی ہیں۔اور بہت سوں نے اس پر خاصا کام کیا ہے کہ خودکش بمبار کیسے تیار ہوتا ہے۔ان میں سے کوئی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ خودکش بمبار کسی پروڈکٹ کی طرح فیکٹری میں تیار نہیں ہوتے بلکہ یہ رضا کارانہ عمل ہے۔اور اس کام کے لئے صرف ان چنیدہ افراد کو منتخب کیا جاتا ہے جن کے ذہن میں موت کو گلے لگانے کے بارے میں زرا سا بھی ابہام نہ ہو۔ایسے لوگوں کی تربیت کھلے میدان میں ڈرل کروا کر نہیں بلکہ بند کمرے میں انفرادی طور پر برین واشنگ کے زریعے کی جاتی ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ باجوڑ کے اس مدرسے میں خودکش بمبار تیار ہوتے تھے تو ملبے سے کم ازکم وہ ٹریننگ کٹ ہی برآمد کرلی جائے جسے بارود کی اسٹکس لگا کر رنگروٹوں کو سینے پر باندھ کر دکھایا جاتا ہوگا۔جیسا کہ تامل ٹائیگرز یا کچھ فلسطینی گروپ کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایمن الزواہری سمیت القاعدہ کے اہم رہنما کئی مرتبہ یہاں کا دورہ کرچکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جس انٹیلی جینس ایجنسی نے القاعدہ کے ان اشتہاری ملزموں کی آمدورفت کی لاگ بک مین ٹین کی وہ ان پر ایک بار بھی ہاتھ ڈالنے سے کیوں قاصر رہی۔کم ازکم یہ تو کیا جاسکتا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوتا جب القاعدہ کے کسی رہنما کی یہاں موجودگی کی اطلاع ملتی تاکہ حکومت سینہ تان کر کہہ سکتی کہ ایک جائز ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سال جنوری میں باجوڑ کے اسی مقام ڈما ڈولا میں امریکی فضائی کارروائی میں اٹھارہ سویلین ہلاک ہوئے تھے۔جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ جس جگہ حملہ ہوا وہاں ایمن الزواہری کی موجودگی کی اطلاع تھی۔اس واقع پر حکومتِ پاکستان نے بھی دبے لفظوں میں امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔لیکن خود حکومتِ پاکستان نے جو بیاسی افراد ہلاک کئے ان میں القاعدہ کا کوئی مطلوب رہنما تو کجا کوئی مقامی شدت پسند رہنما بھی نہیں مارا گیا۔ جن مولوی لیاقت اور مولانا فقیر محمد پر حکومت دہشت گردوں کے اس گڑھ کی سرپرستی کا الزام لگا رہی ہے انہی دونوں سے وہ حملے سے ایک روز پہلے تک امن معاہدے کا عندیہ دے رہی تھی۔اور یہ دونوں آج بھی حیات اور آزاد ہیں۔اگر یہ واقعی سرغنہ ہیں تو ان سے معاہدہ کی خواہش کرنے کے بجائے القاعدہ کے روپوش رہنماؤں کی معلومات کا خزانہ اگلوانے کے لیے پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ حملے کے فوراً بعد جو اولین سرکاری وضاحتیں جاری کی گئیں ان میں کہا گیا کہ مرنے والوں میں غیرملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔لیکن بعد کے بیانات میں سے غیرملکی حذف کردیا گیا اور صدر مشرف سمیت سب نے یہ موقف اختیار کیا کہ مرنے والے سب کے سب دہشت گرد تھے۔اور دلیل یہ دی گئی کہ مدرسے میں موجود لوگوں کا تعلق صرف باجوڑ ایجنسی سے نہیں تھا بلکہ ایک بڑی تعداد میں سوات اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کے بھی لوگ تھے۔ اب تک تو حکومت یہ کہتی آئی تھی کہ ہم وزیرستان میں مقامی لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ باہر سے آنے والے ازبک، چیچنیائی ، اور عرب دہشت گردوں اور انکے پشت پناہوں کے خلاف ہیں۔لیکن باجوڑ کے مدرسے میں دہشت گردوں کی موجودگی ثابت کرنے کے لئے جو تازہ ترین دلیل دی گئی ہے اسکی روشنی میں اگر کوئی طالبِ علم سوات کے بجائے باجوڑ کے مدرسے میں جائے گا تو اسکو بھی غیرملکی دہشت گردوں کے برابر تصور کیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت سارا زور یہ بات ثابت کرنے پر صرف کر رہی ہے کہ یہ کاروائی پاکستانی عسکری اداروں نے کی ہے جبکہ باجوڑ والے اس بات پر یقین کئے بیٹھے ہیں کہ یہ کارروائی امریکیوں نے کی ہے۔ پاکستانی صرف اپنے سر الزام لے کر نیٹو اور امریکہ کی شاباش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس علاقے میں انٹیلی جینس ایجنسیوں اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود ملک بھر سے دہشت گرد تربیت لینے کے لیے آسانی سے پہنچ گئے۔وہاں کسی صحافی کو ایک مدت سے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘01 November, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں01 November, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری: قافلے کو روک دیا گیا01 November, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: قبائل میں شدید اشتعال31 October, 2006 | پاکستان کراچی،اسلام آباد میں بھی مظاہرے31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج30 October, 2006 | پاکستان مدرسے پر فوج کی بمباری، ’80 افراد ہلاک‘30 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||