BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 November, 2006, 08:32 GMT 13:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں

حکومت پاکستان اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے درمیان پانچ ستمبر کو طے پانے والے امن معاہدے کے بارے میں عالمی اور قومی سطح پر شک وشبہات کا اظہار آج تک کیا جا رہا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں ایک مدرسے پر حالیہ حملے سے اس معاہدے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ باجوڑ میں بھی حکام حملے سے قبل شمالی وزیرستان طرز کے امن معاہدے پر پہنچ چکے تھے۔

دوسری جانب سرحد پار افغانستان میں نیٹو اہلکاروں کا تو کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد سے شدت پسندوں کے سرحد پار حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس معاہدے سے قبل جنوبی وزیرستان میں بھی اس قسم کے دو سمجھوتے طے پا چکے ہیں۔ ان پر تو کوئی خاص بحث نہیں دیکھی گئی لیکن اس تازہ معاہدے پر ناصرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی مسلسل رائے زنی ہو رہی ہے۔

اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں ملی جلی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ چل جائے گا اور کچھ اس کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں۔ کچھ کے خیال میں اس سے مذہبی عناصر مضبوط اور حکومت کمزور ہوئی ہے تو کوئی کہتا ہے یہ پختونوں کو مروانے کی سازش ہے۔ آخر اصل بات ہے کیا؟

معاہدے کے بعد سے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کی چہل پہل بحال ہوچکی ہے۔ عام لوگ اس معاہدے سے خوش ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یہ پائیدار بھی ثابت ہو۔ کافی خون خرابے اور افراتفری کے بعد ان کی طلب امن ہے۔

حکومت، جرگہ اراکین اور مقامی طالبان تو اسے بہترین معاہدہ قرار دیتے ہیں لیکن اس اہم معاہدے کے بارے میں خود شمالی وزیرستان کے عام لوگ کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں یہ پائیدار ثابت ہوگا؟ میران شاہ کے چند قبائلیوں سے بات ہوئی تو اکثر پرامید دکھائی دیئے۔

ایک بس اڈے پر انتظار میں کھڑے سید ولی کا کہنا تھا ’جی ہاں حالات پرامن ہوئے ہیں تو یہ معاہدہ چل جائے گا۔ یہ معاہدہ سو فیصد اچھا ہے‘۔

لیکن اگر کسی سے دریافت کریں کے ان کے خیال میں اس ساری صورتحال کا ذمہ دار کون تھا تو اکثر لوگ اس کا جواب دینے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نور محمد کا کہنا ہے: ’یار اس بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا آپ بہتر جانتے ہیں۔ بس اللہ کی طرف سے ایک امتحان، پریشانی آئی تھی‘۔

وزیرستان پر اکثر لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں لیکن وہیں ایک قبائلی خود آ کر موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ جان نامی اس شخص کے خیال میں ایک وقت میں دو حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ ’اس وقت حکومت تو طالبان کا ہے میران شاہ میں۔ وہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے جو کہا حکومت نے مان لیا‘۔

رائے زنی
 اس معاہدے سے قبل جنوبی وزیرستان میں بھی اس قسم کے دو سمجھوتے طے پا چکے ہیں۔ ان پر تو کوئی خاص بحث نہیں دیکھی گئی لیکن اس تازہ معاہدے پر ناصرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی مسلسل رائے زنی ہو رہی ہے۔

تو کیا واقعی شمالی وزیرستان میں بھی جنوبی وزیرستان کی طرح حکومت کی رٹ ختم ہو رہی ہے۔ یہی سوال میں نے گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کے سامنے رکھا تو ان کا موقف تھا کہ معاہدے سے پہلے شاید ایسی بات کسی حد تک درست ہو لیکن اب ایسا نہیں۔ ’بازاروں میں چہل پہل بحال ہوچکی ہے۔ لوگ مطمئن ہیں۔ آپ خود جا کر دیکھیں‘۔

لیکن جب ان کی توجہ مقامی طالبان کی جانب سے دفتر کھولنے سے متعلق خبروں کی جانب مبذول کرائی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط فہمی پر مبنی تھیں۔ ’طالبان نے کوئی دفتر نہیں کھولا ہے۔ وہ محض ایک کوشش تھی کہ نقاب پوش افراد کہیں امن عامہ کی صورتحال خراب کرنے کی اگر کوشش کریں تو ان سے نمٹا جاسکے۔ میں نے ان سے امن کمیٹی کے ذریعے پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ نیک نیتی پر مبنی ایک اعلان تھا تاکہ کسی کو امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ دیا جائے‘۔

لیکن اس دفتر کی بندش کے چند روز بعد طالبان کی جانب سے ٹیکس لاگو کرنے کی نئی خبر سامنے آئی جس پر ابھی تک سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امن معاہدے کی ایک شق کے مطابق شدت پسندوں کی سرحد پار آمد ورفت پر پابندی ہوگی۔ ماضی میں یہ کافی سنگین مسئلہ رہا ہے اور افغانستان اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کو اس بارے میں شدید شکایات اور خدشات رہے ہیں۔

لیکن چند تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیرستان کا علاقہ آج بھی طالبان اور القاعدہ کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے اہم مرکزی رہنما جلال الدین حقانی اس خطے میں سرگرم ہیں اور سرحد پار سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر جلال الدین حقانی کو یہ علاقہ استعمال کرنے سے روک دیا جائے تو معملہ حل ہوسکتا ہے۔

وزیرستان
باجوڑ ایجنسی پر حالیہ حملے سے اس معاہدے کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے

عوامی نیشنل پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل افراسیاب خٹک کا ماننا ہے کہ ان حملوں کو روکنے کے لیئے ایک فارمولہ فوج کی اس علاقے سے واپسی اور طالبان عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا ہو سکتا ہے۔

تو کیا سرحد پار آنا جانا روکا جاسکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ معاہدے کے معمار، مصالحتی جرگے کے جنوبی وزیرستان سے رکن اور سینٹر محمد صالح شاہ کا کہنا تھا کہ اس آمد ورفت کے اکا دکا واقعات خارج از امکان نہیں۔ ’یہ تو رہتی دنیا ہے اس میں اس طرح کے چند واقعات نہیں روکے جاسکتے ہیں’۔

لیکن ان کا موقف تھا کہ جب جرگے نے فیصلہ کر دیا کہ سرحد پار حملوں کے لیئے آمد و رفت نہیں ہوگی تو ایسا اب نہیں ہوگا۔ ’لیکن ہم ہر اس الزام کی تردید یا تصدیق کرنے نہیں بیٹھے ہیں کہ افغانستان میں پکڑے جانے والے ادھر سے ہیں یا ادھر سے۔ پھر جرگہ اراکین پر چوکی پر ہر وقت بیٹھ بھی نہیں سکتے سرحد پر آنے جانے والوں پر نظر رکھنے کے لیئے‘۔

اس معاہدے کے بعد ایک تاثر یہ بھی ابھرا کہ شاید اس سے قبائلی ملک کا روایتی کردار کمزور اور مذہبی حلقے مضبوط ہوئے ہیں۔ پہلے ملک ہی تمام معملات میں پیش پیش رہتا تھا لیکن اب اس صف میں مقامی علماء بھی شامل ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے ملک نصراللہ تاہم اس سے متفق نہیں۔ ’نہیں نہیں یہ تو پہلے سے ایسے تھا جیسے مولوی ہمارے اتمانزئی بھائی ہیں۔ ملک بھی اسی قبیلے سے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ پہلے سے ایسا تھا۔ مولوی حضرات تو قابل عزت ہیں ہمارے بڑے ہیں۔ یہ تو ہمارے دین کے ستون ہیں ہم پر تو ان کی عزت لازم ہے۔ اس معاہدے سے اس میں کوئی فرق نہیں آیا ہے جیسے ملکان نے سبقت لے لی ہے یا ملا نے یا کسی طالب نے‘۔

امن معاہدے میں ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے بھی بات خصوصی طور پر کی گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دو سو حکومت نواز قبائلی رہنما اس طریقہ قتل کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

ملک قادر خان کا اس وقت کو یاد کرکے کہنا تھا کہ ان حالات میں ہر کوئی احتیاط سے کام لے رہا تھا۔ ’کیا ہم، کیا علماء یا کیا عوام سب اپنے تحفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ لیکن اب حالات بہتر ہوئے ہیں۔ اب سب آزاد گھوم پھرسکتے ہیں‘۔

معاہدے پر دستخط کے بعد بھی کئی لوگوں کا قتل جاسوسی کے الزام میں جاری ہے۔ اس بارے میں سینٹر صالح شاہ کا کہنا تھا کہ جو بھی پاکستان کے خلاف کام کرے گا اس کا یہی حال ہوگا۔ ’یہ تو پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اس میں تو پہلے میں پھر کوئی اور۔ ہم کسی کو وہاں کے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

بین الاقوامی سطح پر اس معاہدے میں دلچسپی کی ایک وجہ اس کی شمالی وزیرستان میں موجود غیرملکیوں سے متعلق ایک شق ہے۔ معاہدے کے تحت غیرملکی پہلے تو علاقے چھوڑ کر جائیں گے اور اگر ایسا کسی وجہ سے ممکن نہیں تو وہ پرامن رہنے کی یقین دہانی کرائیں گے۔

معاہدے کا امتحان
ابتدائی چھوٹے موٹے مسائل کے برعکس اس معاہدے کا اصل امتحان آئندہ برس موسم بہار کے آغاز سے شروع ہوگا جب افغانستان میں طالبان اپنی کارروائیاں موسم سرما کے اختتام پر دوبارہ شروع کرتے ہیں۔
ماہرین

محدود سرکاری اندازوں کے مطابق ان غیرملکیوں کی تعداد سو سے ڈیڑھ سو تک ہے جن میں اکثریت مشرق وسطٰی سے ہے جبکہ عرب باشندوں کی تعداد دس یا بیس سے زیادہ نہیں۔

تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے غیرملکی شدت پسندوں کو جنوب کی طرح شمالی وزیرستان میں بھی ’فری ہینڈ‘ ملے جائے گا۔

غیرملکیوں سے متعلق معاہدے میں جو بات کی گئی ہے اس پر معاہدے کے پہلے دو ماہ میں کیا پیش رفت ہوئی ہے، اس بابت گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک ان غیرملکیوں کے کسی شدت پسند کارروائی میں ملوث ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند غیرملکیوں کے نقل مکانی کی بھی خبریں ہیں تاہم ان کی تعداد وہ ابھی نہیں بتا سکتے۔

میران شاہ میں طے پانے والے معاہدے کو کئی تجزیہ نگار کمزور قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس میں پورے اتمانزئی قبیلے کو فریق بنایا گیا ہے ناکہ ہر قبیلے اور قوم کو۔ دوسرا اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سزائیں بھی تجویز نہیں کی گئیں جس وجہ سے یہ مبہم ہے۔

قبائلی علاقوں کے سابق سیکرٹری سکیورٹی محمود شاہ کا جوکہ جنوبی وزیرستان کے معاہدوں میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں کہنا ہے کہ اس سمجھوتے میں ٹھوس باتوں کی کمی ہے۔ ’باتیں بہت ہیں تاہم ضمانتیں نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ دو ماہ تک چل گیا ہے تو اسے جانچنے کے لیئے اسے مزید وقت دینا ہوگا’۔

مصالحتی جرگے کے رکن صالح شاہ کا مانا ہے کہ جب جرگے نے فیصلہ کیا ہے تو قبائلی روایات کے مطابق جرگے کو اپنے اختیارات اور سزاؤں کے بارے میں معلوم ہے۔

کئی ماہرین کے خیال میں ابتدائی چھوٹے موٹے مسائل کے برعکس اس معاہدے کا اصل امتحان آئندہ برس موسم بہار کے آغاز سے شروع ہوگا جب افغانستان میں طالبان اپنی کارروائیاں موسم سرما کے اختتام پر دوبارہ شروع کرتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں آئندہ سال افغانستان میں موجود غیرملکی افواج کے لیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد