باجوڑ کارروائی ہم نے کی: گورنر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے باجوڑ ایجنسی میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اس تاثر کوبالکل بے بنیاد قرار دیا ہے کہ یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی پاکستانی افواج نے کی ہے۔ ادھر باجوڑ کے واقعے کے خلاف قبائلی علاقوں اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں تیسرے روز بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ بدھ کے روز پشاور میں صحافیوں کے ساتھ مختصر بات چیت کرتے ہوئے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے کہا ’ہمیں امریکہ یا کسی اور ملک سے مدد لینے کی کوئی ضرورت نہیں، اللہ کا فضل ہے ہمارے پاس وسائل موجودہے اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس حملے میں امریکہ کی مدد لی گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے انہیں اعتماد میں لیکر مدرسے کے اوپر حملہ کیا تھا۔ گورنر کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئی عام شہری نہیں تھا بلکہ جو لوگ اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ان کی عمریں اٹھارہ سال سی لیکر پچیس تئیس سال کے درمیان ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس حملے سے باجوڑ ایجنسی میں جاری امن کی کوششوں پر اثر پڑے گا علی محمد جان اورکزئی نے کہا کہ ’ اتنا خاص اثر تو نہیں پڑے گا البتہ امن کی کوششیں میں تاخیر ضرور ہوسکتی ہے لیکن یہ عمل بند نہیں ہوگا بلکہ یہ جاری رہے گا۔‘ انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ اور پاک فوج کے مابین فقدان کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔ ’پولیٹکل انتظامیہ اور فوج کے درمیان رابطے کا کوئی فقدان نہیں۔ قبائلی علاقوں کے بارے میں حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہاں ترقیاتی کام بھی جاری رہے۔ قبائلی عوام کی معاشی حالت بھی بہتر ہو اور اگر فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ بھی ساتھ ساتھ چلے گی۔ | اسی بارے میں ’حکومت کے دعوے جھوٹ ہیں‘ : باجوڑ کے زخمیوں کی باتیں01 November, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں01 November, 2006 | پاکستان ’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘31 October, 2006 | پاکستان ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||