’امریکی بموں کے ٹکڑے موجود ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی ہارون الرشید نے دعوی کیا ہے کہ اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ باجوڑ کے علاقے خار میں مدرسے پر بمباری امریکی طیاروں نے کی تھی۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حقائق کو سامنے لانے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اس کے سامنے جائے وقوع سے حاصل کردہ امریکی بموں کے ٹکڑے پیش کیئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ حملہ ریاستی دہشتگردی اور ماورائے عدالت قتل ہے اور سپریم کورٹ کو اس واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہیئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں اس بارے میں درخواست دی جائے گی۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ نے یہ حملہ باجوڑ میں حکومت اور قبائل کے درمیان ہونے والے متوقع امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت زمینی حقائق کو بدلنے اور سچ کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاحال صحافیوں اور دیگر اداروں کو تباہ شدہ مدرسے تک پہنچنے نہیں دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی ٹیم کو علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے تا کہ اصل بات عوام کے سامنے آ سکے۔ باجوڑ پر حملے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح پانچ بجے امریکی ’ڈرون‘ نے مدرسے پر وحشیانہ بمباری کی اور اس کے بیس منٹ بعد پاک فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نمودار ہوئے اور رسمی کارروائی کے لیئے اردگرد کے علاقوں پر چند راکٹ پھینکے تاکہ اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی فوج اٹھا سکے۔ اس سوال پر کہ دن کی روشنی نہ ہونے کے باوجود وہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حملہ ’ڈرون‘ نے کیا، صاحبزادہ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ وہ اس تباہی کے چشم دید گواہ ہیں اور ’روس کے خلاف جنگ کے زمانے میں یہی ڈرون طیارے دن رات ہمارے سروں پر اڑتے تھے اور قبائلی علاقوں کا بچہ بچہ صرف ان کی آواز سن کر انہیں پہچان لیتاہے۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون پورے ماہِ رمضان میں باجوڑ ایجنسی پر پرواز کرتے رہے ہیں۔ باجوڑ پر حملے پر احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے سوال پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفٰی قاضی حسین احمد کو پیش کیا ہے اور یہ استعفٰی سیاسی نہیں بلکہ حتمی ہے اور وہ اپنے علاقے کے عوام کے احساسات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیا ہے۔ یاد رہے کہ انتیس اکتوبر کی صبح پانچ بجے کے قریب باجوڑ ایجنسی کے ایک گاؤں میں واقع مدرسے پر بمباری سے اسّی کے قریب افراد مارے گئے تھے اور پاکستانی حکام نے دعوٰی کیا تھا کہ مارے جانے والے تمام افراد شرپسند تھے اور مدرسے میں عسکری تربیت حاصل کر رہے تھے جبکہ مذہبی جماعتوں کا کہنا تھا کہ مرنے والے تمام افراد طالبعلم تھے۔ ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے اس حملے کو امریکی کارروائی قرار دیا تھا اور ملک بھر میں احتجاج کرنے کا علان کیا تھا۔ | اسی بارے میں ’ان پر دنیا کا ہم پر اللہ کادباؤ ہے‘31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ کی بے جوڑ کہانی01 November, 2006 | پاکستان ’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘01 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد02 November, 2006 | پاکستان مدرسہ سے تعلق، جماعت کی تردید02 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||