BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسہ سے تعلق، جماعت کی تردید
سید منوّر حسن
سید منور حسن کے مطابق جماعت اسلامی پر یہ نیا الزام ’امریکہ کو خوش کرنے کے لیے‘ لگایا ہے
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل اور سینیئر رہنما سید منوّر حسن نے حکومتی حلقوں کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کو رد کر دیا ہے کہ باجوڑ میں بمباری کا نشانہ بنائے جانے والا مدرسہ دہشت گردوں کا تربیتی مرکز تھا اور جماعت اسلامی کا اس سے گہرا تعلق تھا۔

جماعت اسلامی کے رہنما نے یہ بات بی بی سی کی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کی جماعت پر یہ نیا الزام ’امریکہ کو خوش کرنے کے لیے‘ لگایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے خلاف اس لیے یہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ جماعت اسلامی نے سب سے پہلے اس واقعے پر احتجاج کیا اور جماعت کے امیر قاضی حسین احمد پہلے قومی رہنما ہیں جنہوں نے موقع پر پہنچنے کی کوشش کی۔

منور حسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت امریکہ اور نیٹو کے افواج کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ’اصل میں تو پرویز مشرف کی حکومت ہے۔ جس چیز کا نام آجکل حکومت ہے وہ فردِ واحد کرتا ہے اور یہ اسمبلیاں ڈیکوریشن پِیس بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ ’کازمیٹِک ‘ اسمبلیاں ہیں۔‘

 ’افغانستان کی جہاد میں بھی ہم شریک تھے، کشمیر کی جہاد میں بھی شریک ہیں، سو فیصد۔ نہ اسے در اندازی کہتے ہیں اور نہ اس میں منہ چھپاتے ہیں۔ ہم پوری دنیا میں جتنی جہادی تحریکیں ہیں سب کے پشت بان ہیں۔
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل منور حسن

جب ان سے پوچھا گیا کہ جماعت اسلامی کا افغانستان میں لڑنے والے مجاہدین سے تو تعلق تھا، اور کل کے مجاہدین کو آج کے دہشت کہا جا تا ہے، تو کیا آپ کا ان سے تعلق نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جماعت اسلامی دنیا بھر کی جہادی تحریکوں کی حمایت کرتی ہے اور ہمیشہ کھل کر کرتی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کی جہاد میں بھی ہم شریک تھے، کشمیر کی جہاد میں بھی شریک ہیں، سو فیصد۔ نہ اسے در اندازی کہتے ہیں اور نہ اس میں منہ چھپاتے ہیں۔ ہم پوری دنیا میں جتنی جہادی تحریکیں سب کے پشت بان ہیں۔ ہم فلسطین کی حماس کو بھی ساپورٹ کرتے ہیں، لبنان کی حزب اللہ کو بھی ساپورٹ کرتے ہیں، ہم شیشانیوں کو بھی اور عراق اور افغانستان میں بھی ، جو بھی امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے ہم سب کی پیٹ ٹھونکتے ہیں اور سب کی پشتِ بان ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس لیے ’ہمارا چہرہ جانا پہچانا ہے ، ہم نے کوئی کام جو کیا ہے چھپ کر نہیں کھل کر کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اب ام کا سامنا ان لوگوں سے ہو گیا ہے جو کل امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں کچھ کر رہے تھے اور آج اس کے کہنے پر کچھ اور کر رہے ہیں۔

منور حسن کا کہنا تھا کہ اب ان کی جماعت اس غیر آئینی حکومت کے خلاف عوام کو منظم کرے گی کیونکہ بقول ان کے ’لوگوں میں اس وقت شدید غم و غصہ ہے۔‘

طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
بے جوڑ کہانی
باجوڑ کی حکومتی کہانی میں جھول نمایاں ہیں
اسی بارے میں
’جماعت اسلامی کا ہاتھ ہے‘
01 November, 2006 | پاکستان
’حملہ امریکیوں نے کیا ہے‘
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد