باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری کے خلاف چھٹے روز بھی صوبہ سرحد اور باجوڑ میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ باجوڑ سے موصول اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز پاک افغان سرحد پر پشت کے علاقے میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ مظاہرین نے حکومت کی اس واقعے پر مذمت کی جس میں اسی افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہرین سے جعمیت علما اسلام کے رکن قوما اسمبلی مولانا محمد صادق اور سینٹر عبدالرشید نے بھی خطاب کیا اور حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی تلقین کی۔ اس کے علاوہ باجوڑ میں اس برس کے اوائل میں امریکی بمباری کا نشانہ بنے والے ڈمہ ڈولہ علاقے کے لوگوں نے بھی ایک جلوس نکالا جس نے عنایت کلی پہنچ کر سرکاری اور نجی املاک پر پتھراو کیا۔ مظاہرین نے لیویز چوکی پر بھی حملہ کیا جس سے وہاں موجود اہلکار بھاگ گئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین صدر مقام خار کی جانب مارچ کرنا چاہتے تھے لیکن مقامی انتظامیہ نے قبائلی مشران کے ذریعے انہیں منتشر ہونے پر مجبور کر دیا۔ مظاہرین نے صدر مشرف اور امریکی صدر بش کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ پشاور میں سرحد بار کونسل کی کال پر صوبہ سرحد کے وکلاء نے باجوڑ کے واقعے کے خلاف بطور احتجاج تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں بار روم میں ایک احتجاجی اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں وکلاء رہنماؤں نے بمباری کو وحشیانہ اقدام قرار دیا۔ بعد میں وکلاء نے جلوس نکالا جس نے ہائی کورٹ کے سامنے سڑک بلاک کر دی۔ |
اسی بارے میں باجوڑ اور سرحد میں احتجاج جاری03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ کے زخمی: شدت پسند یا معصوم؟03 November, 2006 | پاکستان باجوڑ مکمل ہڑتال، اسمبلی اجلاس ملتوی 03 November, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل03 November, 2006 | پاکستان مدرسہ کی تعمیر3 ماہ میں: جماعت02 November, 2006 | پاکستان حکومت کو مطلوب مولوی فقیر کون؟01 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||