BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 November, 2006, 04:52 GMT 09:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ کے زخمی: شدت پسند یا معصوم؟

متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی زخمیوں کو نظرانداز کررہی ہے
باجوڑ مدرسے پر بمباری میں زندہ بچ جانے والے تین نوجوان پشاور کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان سے حکومت کا اب تک کوئی رابطہ نہ ہونے پر کافی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جب حکومت کے بقول اس مدرسے میں لوگوں کو عسکری کارروائیوں کی تربیت دی جا رہی تھی تو پھر حکومت نے ان تین زخمی نوجوانوں کو اب تک نظر انداز کیوں کر رکھا ہے۔ انہیں حراست میں کیوں نہیں لیا جاتا یا انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟

عوامی حلقوں میں یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر حکومت کی بات تسلیم کرلی جاتی ہے کہ مدرسہ ضیا العلوم میں گزشتہ پیر کی صبح ہلاک ہونے والے اسی کے اسی مجرم تھے تو یہ بچ جانے والے یہ تین کیا ہیں۔ اگر ابھی تک انہیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے تو آیا وہ معصوم ہیں؟

تجزیہ نگاروں کے بقول اصل مسئلہ حکومت کے اس مدرسے پر بمباری سے متعلق موقف کا ہے۔ وہ اب تک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ چند بےقصور بھی اس حملے میں شاید مارے گئے ہوں گے۔ حکومت پہلے دن سے یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ مدرسے میں موجود سب قصور وار تھے۔ لیکن ان تینوں کا کیس دیکھ کر حکومتی موقف میں فرق واضح دکھائی دیتا ہے۔

مرکزی حکومت نے تو زخمیوں کے علاج یا مالی امداد کی ضرورت محسوس نہیں
سرکاری اہلکار اس معملے پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔ تاہم یہ ابہام حکومت کی جانب سے توجہ اور وضاحت طلب ہے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپانے سے شاید یہ قضیہ خود بہ خود ختم نہیں ہوگا۔

گرفتاری کے معملے سے قطہ نظر جس کی وجہ سے شاید مرکزی حکومت تو ان زخمیوں کے علاج یا مالی امداد کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی لیکن حیران کن بات صوبائی حکومت کی ان زخمیوں کی امداد میں عدم دلچسپی ہے۔

دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی قیادت تو اس حملے کو امریکی کارستانی قرار دے کر اس کے خلاف لوگوں کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر لا رہی ہے اور اسی اتحاد پر مشتمل سرحد حکومت تو اس واقعے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے اور کئی وزراء اس کی مذمت بھی کر چکے ہیں۔

لیکن سرحد حکومت ان زخمیوں کی مدد یا داد رسی تک کے لئے آگے نہیں آئی ہے۔ کوئی صوبائی وزیر ان زخمیوں کی عیادت تک کے لئے ہسپتال نہیں گیا۔ اس کی وجہ بھی ناقابل فہم ہے۔ اس وقت ان طلبہ کی مالی معاونت صرف بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کر رہی ہے۔

ادھر خود حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جانب سے باجوڑ واقعے پر ردعمل کافی نرم سامنے آیا ہے۔ صرف ایم ایم اے احتجاج میں پیش پیش ہے باقی جماعتیں کیوں نہیں؟

سرحد حکومت زخمیوں کی مدد یا داد رسی کے لئے آگے نہیں آئی ہے۔

عام تاثر یہی ہے کہ صرف ایم ایم اے نے ہی جو ردعمل دکھایا ہے باقی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی جماعتوں نے اپنے ردعمل کو عمومی طور پر صرف زبانی جمع خرچ تک محدود رکھا ہوا ہے۔ نواز شریف اور بے نظیر کے رسمی سے مذمتی بیانات تو شائع ہوئے ہیں لیکن اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

کچھ لوگ یہ صورتحال دیکھ کر یہ پوچھنے میں درست ہیں کہ آیا یہ خاموشی امریکہ کو ناراض کرنے سے بچنے کی کوئی کوشش ہے۔ کیا آئندہ برس متوقع عام انتخابات ان سیاسی جماعتوں کو روکے ہوئے ہیں؟

یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں پہلے ہی فوجی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانے کے معملے پر تقسیم کا شکار ہیں۔

باجوڑ کے زخمی
’حکومتی دعوے جھوٹ ہیں‘
مولوی فقیرمولوی فقیر کون؟
طالبان اور القاعدہ کومدد دینے کا الزام
طالبان جنگجو’ہم پر اللہ کا دباؤ ہے‘
اپنا دفاع کرنا شرعی فریضہ ہے: مولانا فقیر
قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
عینی شاہدین کا بیان
مدرسے پرحملہ ایسے لگتا تھا جیسے زلزلہ ہو
دیکھئیےخصوصی ویڈیو: مولوی فقیر محمد کی تقریر
باجوڑ میں حملے کے خلاف احتجاجی جلسے میں مولوی فقیر محمد کی تقریر
اسی بارے میں
باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد
02 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد