شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک عالم دین کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ذبح کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے بکاخیل علاقے سے تعلق رکھنے والے مولانا صلاح الدین شوال میں ایک مدرسے میں مدرس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ان کی عمر پینتالیس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو ان کی لاش شمالی وزیرستان کے رزمک اور جنوبی وزیرستان کے مکین علاقے کے درمیان سڑک کنارے ملی۔مولانا صلاح الدین کو نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی سے اتار کر پہلے ذبح کیا اور پھر گولیاں بھی ماریں۔ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق لاش کے قریب ایک پرچی بھی ملی جس میں مولانا پر امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا۔اس الزام کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستان فوج کے کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں افراد امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوس علاقے میں بیرونی عناصر کو مداخلت اور حالات خراب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم ابھی تک ان ہلاکتوں میں ملوث کسی شخص کو حکام گرفتار نہیں کر سکے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان: جاسوسی کے الزام میں ہلاک09 September, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں01 November, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں مزید 7 لاشیں 25 September, 2006 | پاکستان باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد02 November, 2006 | پاکستان ’جاسوسی‘ کے شبہے میں قتل28 September, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان: 18 لاشوں کی آمد21 October, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان وزیرستان ایک تجربہ گاہ10 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||