وزیرستان ایک تجربہ گاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا قبائلی علاقہ وزیرستان ایک مرتبہ پھر خطے میں ایک لیبارٹری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ کی کامیابی کی صورت میں اسے افغانستان میں بھی نقل کیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں اعلیٰ سرکاری حلقوں نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورہ کابل میں افغان حکام کو بھی اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وزیرستان معاہدے کی کامیابی کی صورت میں اسی طرح کا عمل افغانستان میں بھی شروع کیا جانا چاہیے۔ گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے سنیچر کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ ’صدر مشرف نے یہ پیشکش میرے سامنے کرزئی صاحب کو دی ہے کہ یہ راستہ وہ بھی اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ جو راستہ پانچ سال سے چل رہا ہے اس کا ابھی ہمیں تجزیہ کرنا چاہیے اور اگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے تو ہمیں کوئی اور راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔ تو یہ بھی ایک راستہ ہے جس کو ٹرائی کیا جا سکتا ہے۔ اگر کامیاب ہوتاہے تو بہتر ورنہ آپ فوجی کارروائیاں جاری رکھیں‘۔
سرکاری ذرائع نے بعد میں بتایا کہ افغان حکومت اس تجویز سے کافی متاثر ہوئی اور انہوں نے اس سلسلے میں افغانستان کے مشرقی صوبوں کے گورنروں کا ایک وفد پشاور بھیجنے پر آمادگی بھی ظاہر کی تاکہ انہیں اس معاہدے پر پہنچنے کے طریقۂ کار کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ لیکن پاکستانی حکام نے انہیں فی الحال تھوڑا انتظار کرنے کو کہا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کوئی سائنس دان لیباٹری میں اپنے تجربے کے کامیاب ہونے کا انتظار کرتا ہے پاکستان کی بھی اس وقت کیفیت کچھ اسی قسم کی ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف تھا کہ اس معاہدے کو تھوڑا وقت دیں تاکہ دیکھا جاسکے کہ یہ اپنے مقاصد حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔ اس کا بظاہر مطلب یہی ہے کہ وزیرستان میں کیا جانے والا حالیہ امن معاہدہ ایک اور تجربہ تھا جس کے نتائج پر ناصرف پاکستانی بلکہ اب افغان اور امریکی حکام بھی گہری نظر رکھیں گے۔ امریکی حکومت نے تو اس معاہدے سے متعلق محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے تاہم برطانوی حکام نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانوی نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر کم ہاؤلز نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ یہ آگے بڑھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اسے افغان بھی تشدد سے نجات کے لیئے اپنے ملک میں اپنا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب بعض حلقے یہ بھی اخذ کر رہے ہیں کہ وزیرستان میں جو پاکستانی حکمران گزشتہ کئی دہائیوں سے تجربات کر رہے ہیں وہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ کچھ مبصرین کے خیال میں پاکستانی حکام نے افغانستان پر اپنی پالیسی میں ایک نیا موڑ لیا ہے اور اس کے خیال میں افغان اور امریکہ کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کامیابی کی صورت میں پاکستان افغانستان میں اس فارمولے کو اپنانے میں مدد بھی دے سکتا ہے۔ یہ مدد طالبان کے ساتھ رابطوں کے لیئے دستیاب افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ رابطے ضروری نہیں کہ اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ذریعے طالبان رہنما ملا محمد عمر سے ہوں لیکن عام قبائلی یا کوئی تاجر بھی ہوسکتا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں حکومت اس سے قبل اس قسم کے دو معاہدے شدت پسندوں کے ساتھ کر چکی ہے۔ اس میں سے نیک محمد کے ساتھ معاہدہ جس میں سرحد پار حملے نہ کرنے کی شق شامل تھی ناکام ہوا جبکہ محسود جنگـجؤوں کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھ طے پانے والی معاہدے میں ایسی کوئی شق ہی شامل نہیں تھی۔ سراروغہ کے مقام پر اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس موقع پر جب بیت اللہ سے اس شق کو معاہدے میں شامل نہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے علاقے کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی لہذا اس کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن بعد میں ایک انٹرویو میں انہوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ افغانستان ’جہاد’ کے لیئے جاتے تھے، جاتے ہیں اور جاتے رہیں گے۔ اب واضح نہیں کہ شمالی وزیرستان کے قدرے جامع معاہدے میں ایسی کیا بات ہے جس نے مقامی شدت پسندوں کو افغانستان نہ جانے کی حامی بھرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سرحد پر تمام آمدورفت پر نظر رکھنا پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیئے پہلے ہی ممکن نہیں۔ گورنر سرحد سے جب اس بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اپیزمنٹ معاہدے کے تحت قبائلیوں کو سرحد پار تجارت یا رشتہ داروں سے ملنے کے لیئے آنے جانے کو کوئی نہیں روک سکتا تاہم اس کے لیئے بھی ایک پہلے نظام موجود ہے۔ یعنی صرف مقامی قبائلیوں کو انتظامیہ پرمٹ جاری کرے گی جس پر یہ لوگ سفر کر سکیں گے۔ تاہم پاکستانی حکام ایک بات شاید بھول رہے ہیں کہ سرحد پر آمدورفت کا کوئی ایک راستہ نہیں بلکہ کئی ہیں اور ہر ایک پر نظر نہیں رکھی جاسکتی۔ گورنر کا کہنا تھا کہ جنگ کی غرض سے سرحد پار کرنے والوں کے لیئے خفیہ ادارے اور سکیورٹی ایجنسیاں موجود ہیں۔ تاہم خود پاکستانی حکام یہ اعتراف بھی ماضی میں کرتے رہے ہیں کہ اتنی طویل اور دشوار گزار سرحد پر نظر رکھنا ان کے لیئے ممکن نہیں۔ اس نئے تجربے کے نتائج کا پاکستانی حکام کب تک انتظار کریں گے جس کے بعد وہ اسے برآمد کرنے کے قابل ہوں گے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ تاہم امن کے خواہاں لوگوں کی خواہش ہے کہ یہ ایک کامیاب لیکن آخری تجربہ ثابت ہو۔ وزیرستان ایک لیباٹری نہ رہے، یہی سب چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں گرینڈ جرگہ، حکومت کی ہوش مندی06 September, 2006 | پاکستان مشرف کا دورہِ کابل: کیا کھویا کیا پایا؟08 September, 2006 | پاکستان الزام لگانا بند کر دیں: مشرف07 September, 2006 | پاکستان ’سینکڑوں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں‘08 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: جاسوسی کے الزام میں ہلاک09 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||