BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 September, 2006, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سینکڑوں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں‘

پاکستانی سکیورٹی اہلکار
اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی کریں گے: گورنر
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آج بھی القاعدہ کے ’سینکڑوں‘ غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔

صوبہ سرحد کے گورنر اور قبائلی علاقوں کے منتظم اعلٰی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ ان غیر ملکیوں کی واضح تعداد بتانا ان کے لیئے مشکل ہوگا کیونکہ یہ ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اب بھی ’سینکڑوں‘ میں ہے۔

گورنر ہاؤس، پشاور میں جمعے کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ میران شاہ میں کیئے جانے والے امن معاہدے سے تمام مقامی شدت پسندوں کو معافی دی گئی ہے تاہم اس رعایت کا اطلاق اسامہ بن لادن یا ان کی القاعدہ کے دیگر رہنماؤں پر نہیں ہوگا۔

گورنر نے واضح کیا کہ گزشتہ منگل میران شاہ میں طے پانے والا معاہدہ مقامی طالبان کے ساتھ نہیں بلکہ اتمانزئی قوم، مقامی علماء اور ملکوں کے ساتھ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس معاہدے سے متعلق امریکہ، فرانس اور جرمنی کی حکومتوں کو پہلے سے آگاہ اور اعتماد میں لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حالیہ دورہ کابل میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ اگر یہ معاہدہ شمالی وزیرستان میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے افغانستان میں بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ ’صدر مشرف نے انہیں بتایا کہ اگر پانچ برسوں کی جنگی کارروائی سے اہداف حاصل نہیں ہو رہے تو یہ بھی ٹرائی کرکے دیکھنا چاہیے۔ اگر کامیاب نہ ہو تو پھر جنگی کارروائیاں شروع کی جا سکتی ہیں‘۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ یہ معاہدہ فوجی کی واپسی یا ایگزٹ سٹریٹیجی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا فوجیں ملکوں سے نکلا کرتی ہیں یہ تو اپنا ہی ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت صرف چند سو فوجی چوکیوں پر سے ہٹائے گئے ہیں تاہم سرحد پر صورتحال پہلے ہی جیسی ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکار
گورنر کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو علاقے سے نہیں ہٹایا گیا

گورنر نے اس تاثر سے بھی انکار کیا کہ اس معاہدے سے شدت پسند مضبوط ہوں گے یا شدت پسندی میں اضافہ ہوگا۔ ان کا موقف تھا کہ امن سے علاقے میں ترقی کی راہیں کھلیں گی اور مقامی آبادی کی اقتصادی حالت میں بہتری آئے گی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ غیرملکی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر اب بھی فوج کوئی کارروائی کرسکتی ہے تو گورنر نے کہا کہ وہ فل الحال صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ’ہم معاہدے پر عمل درآمد کریں گے۔ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ کارروائی ضرور کریں گے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں‘۔

اس اخباری کانفرنس کا بنیادی مقصد بظاہر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں وزیرستان معاہدے کے بارے میں خدشات کو دور کرنا تھا۔

گورنر نے اعتراف کیا کہ وزیرستان میں فوجی کارروائیوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ’ہر وہ شخص جس کا ایسی کارروائی میں نقصان ہوا تھا وہ شدت پسندوں کے ساتھ شامل ہو رہا تھا۔ تو ہم اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور اب مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

قبائلی صحافی حیات اللہ کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں گورنر کا کہنا تھا کہ ان کی انسپکشن ٹیم نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں تاہم وہ ہائی کورٹ کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے لہذا وہ اس کا انتظار کریں گے۔

اسی بارے میں
وزیرستان: دس قیدی رہا
26 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد